Al-Risala · June 2021 · page 7

دجال کا دور

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۷

دجال کا دور

صعب بن جثامہ بن قیس لیثی (وفات 25ھ) ایک صحابی ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتَّى يَذْهَلَ النَّاسُ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ (معجم الصحابہ، جلد 2، صفحہ 8)۔ یعنی صعب بن جثامہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے سنا، آپ نے کہا: دجال نہیں نکلے گا، یہاں تک کہ لوگ اللہ عزوجل کے ذکر سے غافل ہو جائیں گے۔

مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال کسی شخصیت کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک دور کا نام ہے، جب کہ گمراہی بہت پھیل جائے گی۔ وہ گمراہی یہ ہوگی کہ لوگوں کے ذہن سے خدا کی معرفت ختم ہو جائے گی۔ اس غفلت کا سبب ایسے خیالات یا نظریات ہوں گے، جس پر بظاہر اسلام کا لیبل لگا ہوگا، مگر وہ اسلام سے دور کرنے والے ہوں گے۔

دجالیت کا دور وہ ہے، جب کہ دنیا میں پروفیشنل ایجوکیشن کا دور دورہ ہوگا۔ یعنی وہ ایجوکیشن جس کے ذریعے افراد کو ہنر مند بنایا جائے۔ مثلاً تجارت، نرسنگ، انجینیئر نگ اور قانون، وغیرہ۔ لیکن وہ علم جس سے معرفت میں اضافہ ہو، وہ کم یاب ہو جائے گا۔ لوگ پیسہ کمائیں گے، لیکن سچے علم سے بے خبر ہوں گے۔ لوگوں کی جیبیں بھری ہوں گی، اس بنا پر وہ بہت بولیں گے، بہت زیادہ بحثیں کریں گے۔ بظاہر علم کا چرچا ہوگا، لیکن یہ چرچا مادی انٹرسٹ کے لیے ہوگا، نہ کہ اللہ کی معرفت میں اضافہ کے لیے۔ یہ وہ زمانہ ہوگا، جب کہ مال کی کثرت کی وجہ سے لوگ نفس پرستی میں مبتلا ہو جائیں گے۔ جھوٹ کی کثرت ہوگی۔ سچائی کو ماننے کا مزاج کم ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، اپنی بات منوانے والوں کی کثرت ہو جائے گی۔ سنانے والے بہت ہو جائیں گے، لیکن سننے والے موجود نہ ہوں گے۔ پیسے کی افراط کی بنا پر لوگ ان سنسیرٹی (insincerity) میں مبتلا ہو جائیں گے۔ ہر آدمی اپنے ہی کو سب کچھ سمجھے گا۔ دوسرے کی بات سننا، اور اس پر غور کرنا، یہ مزاج دنیا سے ختم ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page