Al-Risala · June 2021 · page 8

عورت اور مرد کا فرق

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۸

عورت اور مرد کا فرق

انگریز مستشرق ایڈورڈ ولیم لین (1801-1876 Edward William Lane) ایک برطانوی مستشرق، مترجم اور لغت نگار (lexicographer) تھا۔ وہ انگریزی کے علاوہ عربی زبان میں مہارت رکھتا تھا۔ عربی زبان کے ڈیٹا کے لیے اس نے مصر میں کئی برس قیام کیا۔ اس نے ایک کتاب منتخب ترجمہ قرآن (Selections from the Kuran) تیار کی۔ جو پہلی بار لندن سے 1843 میں چھپی۔ اس کتاب کے دیباچے میں لین نے لکھا تھا — اسلام کا تباہ کن پہلو عورت کو حقیر درجہ دینا ہے:

The fatal point in Islam is the degradation of woman. (p. 90)

مستشرق لین نے 1843 میں جو بات کہی تھی۔ اُس سے اس کی خاص مراد یہ تھی کہ اسلام کے قانون شہادت (evidence) میں دو عورتوں کی گواہی کو ایک مرد کی گواہی کے برابر مانا گیا ہے۔ یہ دونوں صنفوں کے درمیان کھلی ہوئی نابراہی ہے۔ اس کے بعد بطور مسلمہ یہ بات مان لی گئی کہ اسلام عہد جاہلیت کا مذہب ہے، وہ سائنسی دور کا مذہب نہیں بن سکتا۔

اسلام کے خلاف یہ نظریہ ڈیڑھ سو سال تک چلتا رہا۔ اس کے بعد مختلف اسباب سے سائنسی حلقوں میں یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ عورت اور مرد کے دماغ کے بارے میں دوبارہ ریسرچ کی جائے، اور یہ معلوم کیا جائے کہ کیا دونوں کی دماغی بناوٹ میں کوئی فرق ہے۔ اس ریسرچ کا ایک ریزن یہ سوال تھا کہ ایک عورت اور ایک مرد کے درمیان لو میریج (love marriage) ہوتی ہے اور پھر بیشتر واقعات میں ایسا ہوتا ہے کہ دونوں لڑ بھڑ کر ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں بڑی بڑی یونیورسٹیوں اور اداروں کے تحت، سائنسی انداز میں بہت سی ریسرچ کی گئیں۔ یہاں تک کہ خالص سائنسی ریسرچ کے بعد یہ معلوم ہوا کہ عورت اور مرد کے دماغ میں فطری بناوٹ کے اعتبار سے ایسا فرق پایا جاتا ہے، جس کو بدلنا ممکن نہیں۔ وہ فرق یہ ہے کہ مرد

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page