عورت اور مرد کا فرق
الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۱۰
اس بنا پر وہ اس قابل ہوگا کہ واقعے کے تمام اجزاء اس کے حافظے میں محفوظ ہو سکیں۔ اس کے مقابلے میں عورت اپنے ذہن کی فطری بناوٹ کی بنا پر چیزوں کو سرسری انداز میں دیکھے گی۔ اس کے ذہن کا ایک حصہ واقعے کی طرف متوجہ ہوگا اور اس کے ذہن کا دوسرا حصہ کسی اور چیز کی طرف متوجہ ہو جائے گا۔ اس بنا پر ایک گواہ عورت کے ساتھ دوسری گواہ عورت رکھی گئی تا کہ دونوں مل کر واقعے کی پوری تصویر بنا سکیں۔
مذکورہ سائنسی تحقیق کی روشنی میں قرآن کی متعلقہ آیت زیادہ قابل فہم بن جاتی ہے۔ یہ آیت قرآن میں اس طرح آئی ہے: ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى﴾ (2:282)۔ یعنی تم اپنے مردوں میں سے دو مردوں کو گواہ بنا لو، اور اگر دو مرد نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں، اُن لوگوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو۔ تا کہ اگر ایک عورت (گواہی دینے میں بھول) چوک جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دہانی کرا دے۔
قرآن کی مذکورہ آیت میں ضَلَّ کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ ضَلَّ کے معنی عربی زبان میں ادھر اُدھر بھٹکنے (go astray) کے ہوتے ہیں۔ یہ لفظ اس معاملے میں عِین سائنسی ہے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے اگر مذکورہ آیت کا مفہوم متعین کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ اگر ذہنی بناوٹ کی بنا پر ایک عورت کی توجہ اصل واقعے سے کچھ ہٹ جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دلا کر پہلی عورت کی کمی پوری کر دے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ آیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قرآن عالم الغیب کی طرف سے اتاری ہوئی کتاب ہے۔ خدائے عالم الغیب نے اپنے علمِ کلی کی بنا پر دونوں صنفوں کے درمیان فطری فرق کو اُس وقت جانا جب کہ عام انسان اس فرق سے بالکل نا واقف تھا۔ اس علم کی بنا پر خدا نے گواہی کا مذکورہ اصول مقرر کیا۔ مذکورہ آیت اس بات کا ایک علمی ثبوت ہے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو ابدی صداقت کی حامل ہے۔ قرآن خدائے برتر کی کتاب ہے، نہ کہ عام معنوں میں کوئی انسانی کتاب۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues