Al-Risala · June 2021 · page 11

ڈی لنکنگ ــــ ایک سنتِ رسول

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۱۱

ڈی لنکنگ ــــ ایک سنتِ رسول

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت وہ ہے، جس کو پالیسی آف ڈی لنکنگ ( policy of delinking) کہا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر مکہ میں آپ نے اپنا مشن شروع کیا۔ اس وقت مکہ اہل شرک کے قبضے میں تھا۔ انھوں نے کعبہ کو 360 بتوں کا مرکز بنا دیا تھا۔ رسول اللہ نے یہ کیا کہ کعبہ میں آنے والے زائرین اور اس میں موجود بتوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھا۔ یعنی بت پرستی اور کعبہ کے قریب بت پرستوں کے اجتماع میں فرق کرنا۔ اس طرح ڈی لنکنگ پالیسی اختیار کرنے کی بنا پر آپ کے لیے یہ ممکن ہوا کہ آپ مکمل طور پر مثبت ذہن کے ساتھ اپنا مشن، دعوت الی اللہ کا عمل انجام دے سکیں۔ اگر آپ ڈی لنکنگ پالیسی اختیار نہ کرتے تو یہ فائدہ کبھی حاصل نہ ہوتا۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کو صحابی رسول عمرو بن العاص (وفات 43 ھ) کے قول سے سمجھا جاسکتا ہے ۔ ان کا قول یہ ہے: لَيْسَ الْعَاقِلُ الَّذِي يَعْرِفُ الْخَيْرَ مِنَ الشَّرِّ، وَلَكِنِ الْعَاقِلُ الَّذِي يَعْرِفُ خَيْرَ الشَّرَّيْنِ (المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر (670)۔ یعنی عقل مند وہ نہیں ہے، جو خیر کے مقابلے میں شرکو پہچانے۔ بلکہ عقل مند وہ ہے، جو یہ جانے کہ دو شر کے درمیان خیر کیا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ شر کے مختلف پہلوؤں کو ڈی لنک کر کے دیکھا جائے تو شر کے اندر بھی خیر کا پہلو مل جائے گا۔ آپ نے کعبہ میں بت اور بت پرستوں کے معاملے میں جو طریقہ اختیار کیا، وہ کیا تھا۔ ان بتوں کا ظاہری پہلو یہ تھا کہ وہ شرک کا ذریعہ تھا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انھی بتوں کی وجہ سے وہاں لوگ جمع ہوتے تھے، اور اس کی وجہ سے وہاں ایک آڈینس بنتا تھا۔ رسول اللہ نے یہ کیا کہ بتوں کے مشرکانہ پہلو کو الگ کر دیا، اور بتوں کی وجہ سے وہاں آنے والے لوگوں کو اپنے لیے بطور آڈینس استعمال کیا۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ یہاں ہر عسر کے ساتھ یسر کا پہلو موجود ہوتا ہے۔ انسان اگر مثبت ذہن کے ساتھ معاملے میں غور کرےتو ہرعسر میں اس کو یسر کا پہلو مل جائے گا۔ انیسویں صدی میں انگریز جب انڈیا میں آئے تو انھوں نے مسلمانوں کو بہت سی چیزیں دیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page