Al-Risala · June 2021 · page 14

کریٹیو عمل

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۱۴

کریٹیو عمل

اہلِ ایمان کے عمل کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ قرآن وحدیث کو پڑھیں، پھر اس پر عمل کریں۔ مثلاً یہ کہ پانچ وقت نمازیں پڑھنا، اور رمضان کے مہینے میں روزے رکھنا، وغیرہ۔ ایک اور خاص عمل یہ ہے کہ ایک شخص غور و فکر کر کے کوئی مطلوب عمل دریافت کرے، اور اس کو رو بہ عمل لانے کی پلاننگ کرے۔ اس دوسرے عمل کو کریٹیو عمل کہہ سکتے ہیں۔ اجتہادی عمل اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک کریٹیو عمل ہے۔ ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے : اِذَا اِجْتَهَدَ الْحَاكِمُ فَأَخْطَأَ، كَانَ لَهُ أَجْرٌ، وَاِذَا اِجْتَهَدَ فَأَصَابَ، كَانَ لَهُ أَجْرَانِ (مسند ابو یعلی، حدیث نمبر (228)۔ یعنی جب حاکم اجتہاد کرے اور اس کا وہ حکم درست نہ ہو تو اس کو ایک اجر ملے گا اور اگر اس نے اجتہاد کیا اور اس میں وہ درستگی کو پہنچ گیا، تو اس کے لیے دہرا اجر ہے۔

اجتہادی عمل یا کریٹیو عمل کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ کرنے والا اس میں غلطی کرے تب بھی اس کو ایک ثواب ہے، اور اگر اجتہاد درست ہو تو دہرا ثواب ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ لوگوں کے اندر تخلیقی عمل کے لیے زیادہ سے زیادہ شوق (incentive) پیدا ہو۔ کریٹیو عمل میں آدمی کو بہت زیادہ جد و جہد کرنی پڑتی ہے، اس لیے اس کا ثواب بہت زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص نے قرآن و حدیث اور موجودہ حالات پر غور کیا، اس کے بعد اس کو یہ دریافت ہوئی کہ موجودہ زمانے میں ایک انٹرنیشنل زبان وجود میں آئی، جس کے ذریعے انٹرنیشنل تبلیغ کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے بعد وہ یہ کرے کہ انٹرنیشنل زبان میں قرآن کا معیاری ترجمہ تیار کرے، اور اس کو ساری دنیا میں پھیلائے تو یہ کریٹیو عمل ہوگا۔ عام عمل کا بھی ثواب ہے، لیکن کریٹیو عمل کا ثواب بہت زیادہ ہے۔ تخلیقی عمل کا خاص تعلق دعوتی عمل سے ہے۔ دعوت میں تخلیقی عمل کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ مثلاً اگر آپ قرآن کی دعوت کو عالمی سطح پر پھیلانا چاہیں تو اس کے لیے بہت زیادہ تخلیقی فکر کو کام میں لانا پڑے گا۔ تخلیقی عمل کے بغیر کوئی بڑا دعوتی کام انجام نہیں دیا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page