ڈر، پست ہمتی
الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۱۵
ڈر، پست ہمتی
ایک قاری الرسالہ لکھتے ہیں: میرے ایک ساتھی ہیں جو جنوبی ہند میں دعوتی کام کرتے ہیں۔ آج کل وہ بیمار ہیں، میں ان کی عیادت کے لیے گیا تھا۔ دوران گفتگو انھوں نے اپنا تاثر بتایا کہ جب ہم ٹیم کی شکل میں 1998 میں شمالی ہند کے دعوتی دورے پر گئے۔ تو اس وقت مختلف شخصیات اور اداروں میں جانے کا موقعہ ملا تا کہ دعوتی کام کا تعارف ہو، اور ہمیں اچھا مشورہ اور حوصلہ ملے۔ انھوں نے بتایا کہ اس سفر میں تقریباً سارے ہی افراد نے ہمیں ڈرایا، اور پست ہمت کیا، اور کہا کہ دعوتی کام کے لیے حالات ناسازگار ہیں۔ اس میں صرف ایک شخصیت کا استثنا تھا، وہ مولانا وحید الدین خاں صاحب ہیں۔ انھوں نے ہماری ہمت افزائی کی، اور ہمیں مفید مشورے سے نوازا۔ مولانا ہمارے یہ ساتھی بہت ہی ایکٹیو داعی ہیں، انھوں نے کہا کہ میں آج کل بیماری کے ایام میں خود احتسابی (self-introspection) کی زندگی گزار رہا ہوں۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں کنفیوزن کا شکار ہوں، اور اس کی وجہ کیا ہے، اب تک مجھے اس کا جواب نہیں ملا۔ جب میں ان سے مل کر واپس آگیا تو انھوں نے یہ پیغام بھیجا: "آپ میری عیادت کے لیے آئے، اور مجھے دعاؤں کے ساتھ بہت کچھ دے گئے۔ جب سے میں بیمار ہوا ہوں، اپنے اور اپنی دعوتی ٹیم کے سلسلے میں بہت سوچتا رہتا ہوں کہ ہم نے بیس سال کا عرصہ لگا کر کیا حاصل کیا؟ ہمارا رخ کدھر ہے ۔ کیا ہم دعوت اور بینڈ زندگی گزار رہے ہیں، دعوت کے نام پر ہم کیا کیا کام کر رہے ہیں، وغیرہ، وغیرہ۔ اس طرح کے سوالات ذہن میں آتے ہیں۔ میں ان کے جوابات کی تلاش میں ہوں، کسی سوال کا کچھ جواب ملتا ہے، کسی کا نہیں، خیر ساری چیزیں اپنی ڈائری میں لکھ رہا ہوں، کیا پتہ میرے رب کی طرف سے دوبارہ موقع ملے تو میں اپنی اصلاح کروں۔ " مولانا جب انھوں نے آپ کی شخصیت کا اعتراف بطور داعی کے کیا، پھر بھی اپنے مقصد اور مشن کو لے کر کنفیوزن کا شکار ہیں، اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ کچھ علما اعتدال فکری کے نام پر کنفیوزن کا شکار رہتے ہیں۔ اس لیے وہ "دعوت
‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues