ڈر، پست ہمتی
الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۱۷
مسلمانوں کے اندر صحت مند مزاج بنانے میں بری طرح فیل ثابت ہوئی ہیں۔ حتی کہ تجربہ بتاتا ہے کہ لوگ بظاہر خواہ مختلف قسم کے داعیانہ الفاظ بولیں، لیکن ان کے اندر سے داعیانہ جذبہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ اس لیے ان تحریکوں سے وابستہ افراد سے ملیے تو بہت جلد وہ ظلم اور سازش کے الفاظ بولنے لگتے ہیں، جس کو مذکورہ ملاقات میں ڈرا اور پست ہمتی کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس صورت حال سے محفوظ رہنے کا راستہ صرف ایک ہے۔ وہ یہ ہے کہ پچھلی غلطیوں کا اعتراف کیا جائے، اور دوبارہ مثبت انداز میں دعوت الی اللہ کی منصوبہ بندی کی جائے۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ ان کو احساس ہوتا ہے کہ ماضی میں غلطی ہوئی، تب بھی وہ کھل کر اس کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ غلطی کا اعتراف کیے بغیر کچھ نیا کام کیا جائے۔ مگر اس قسم کا کام کبھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ غلط سرگرمیوں کے زمانے میں جو ذہن بنا ہے، اس کو اعلان کے ساتھ ترک کرنا ضروری ہے۔ اگر اعلان کے ساتھ ترک نہ کیا جائے، تو ممکن ہے کہ اس کے اثرات ہمیشہ باقی رہیں۔
نیز یہ کہ آپ کے دوست نے کچھ افراد کے حوالے سے جو یہ بات کہی ہے کہ انھوں نے ہمیں ڈرایا، اور پست ہمت کیا، اور کہا کہ دعوتی کام کے لیے حالات ناسازگار ہیں۔ ایسے لوگوں پر حضرت عائشہ کا یہ قول ثابت آتا ہے کہ انھوں نے قرآن و حدیث پڑھا، مگر انھوں نے قرآن و حدیث نہیں پڑھا (أُولَئِكَ قَرَءُوا، وَلَمْ یَقْرَءُوا)مسند مسند احمد، حدیث نمبر 24609۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث سے عام طور پر صرف کچھ چھوٹے چھوٹے مسئلے نکالے جاتے ہیں، جن کو جزئی (فروعی) مسائل کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، حدیث میں ابدی رہنمائی کا جو پہلو تھا وہ امت کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر رہ گیا ۔ یہ حدیث کی تصغیر (underestimation) ہے۔ حدیث یا سنتِ رسول سے سب سے بڑی چیز دریافت کرنے کی یہ ہے کہ رسول اللہ نے مسائل کو مواقع میں کنورٹ کیا۔ حدیث کو پڑھنے والے حدیث سے سب کچھ نکالتے ہیں، مگر اس قسم کی ابدی حکمت ابھی تک نہیں نکال پائے۔ ان کے موجودہ منفی ذہن کا یہی اصل سبب ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues