ڈر، پست ہمتی
الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۲۱
پیغمبرِ اسلام کو قرآن (21:107) میں پیغمبرِ رحمت کہا گیا ہے (وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِين) یعنی پرافٹ آف مرسی۔ پرافٹ آف مرسی ہی کا دوسرا نام پرافٹ آف پیس ہے۔ دونوں ایک ہی حقیقت کو بیان کرنے کے لیے دو مختلف انداز کی حیثیت رکھتے ہیں۔
پیغمبرِ اسلام کا مشن کوئی پولیٹیکل مشن نہیں تھا۔ آپ کے مشن کو دوسرے الفاظ میں اسپرچول مشن کہا جا سکتا ہے۔ قرآن (2:129) میں اس کو تزکیہ نفس (purification of the soul) بتایا گیا ہے۔ یعنی انسان کو کامل انسان بنانا۔ دوسری جگہ قرآن (89:27) میں اس کے لیے النفس المطمئنہ (complex-free soul) کے الفاظ آئے ہیں۔
اس قسم کا مقصد صرف نصیحت اور تذکیر (persuasion) کے ذریعہ حاصل ہو سکتا ہے۔ یہ مقصد ذہن کی تشکیلِ نو (re-engineering of the mind) کا طالب ہے۔ یہ مقصد صرف انسان کی تھنکنگ قوت کو بیدار کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے حصول کا ذریعہ سیاسی انقلاب نہیں ہے، بلکہ ذہنی انقلاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام کی تعلیمات تمام تر امن کے تصور پر مبنی ہیں۔ پیغمبرِ اسلام کی لائی ہوئی کتاب قرآن میں تقریباً 6236 آیتیں ہیں۔ ان آیتوں میں بمشکل چالیس آیتیں ایسی ہیں جن میں قتال یا جنگ کا ذکر ہے۔ یعنی کل آیتوں کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ۔ قرآن کی 99 فیصد سے زیادہ آیتیں وہ ہیں جن میں انسان کی قوتِ فکر کو بیدار کیا گیا ہے۔ اس لیے قرآن میں بار بار تدبر و تفکر پر ابھارا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ قرآن گویا آرٹ آف تھنکنگ کے موضوع پر ایک کتاب ہے، وہ کسی بھی درجے میں آرٹ آف فائٹنگ کی کتاب نہیں۔ پیغمبرِ اسلام کی تعلیمات اور آپ کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے نہ صرف نظریہ امن پیش کیا بلکہ آپ نے نہایت کامیابی کے ساتھ پر امن زندگی کے لیے ایک مکمل طریقِ کار وضع کیا:
He was able to develop a complete methodology of peaceful activism.
‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues