ڈر، پست ہمتی
الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۲۰
(contribution) ہے۔ اُس کے لحاظ سے اُن کا سب سے زیادہ مناسب نام یہی ہو سکتا ہے کہ اُن کو امن کا پیغمبر (Prophet of Peace) کہا جائے۔
تاریخ ایک ایسا ڈسپلن ہے جس میں یہ امکان رہتا ہے کہ مطالعہ کرنے والا ایک سے زیادہ رایوں تک پہنچ جائے۔ تاہم مصنف کا یہ خیال ہے کہ ایسا زیادہ تر محدود مطالعے کی بنا پر ہوتا ہے۔ اگر مطالعہ زیادہ وسیع اور جامع ہو تو تعدد آراء کا امکان بہت کم ہو جاتا ہے۔ ایک مثال سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں کچھ دفاعی لڑائیاں پیش آئیں ۔ ان میں سے ایک دفاعی لڑائی وہ تھی جس کو جنگ بدر کہا جاتا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ جس وقت جنگ کا واقعہ ہوا، پیغمبر اسلام میدان جنگ سے باہر ایک عریش میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اپنے ہاتھ یا لکڑی سے آپ ریت پر کچھ لکیریں کھینچتے نظر آئے۔ اس واقعے کو لے کر ایک مستشرق نے بطور خود اس کو جنگ سے منسوب کیا، اور لکھا کہ قائدِ اسلام اُس وقت اپنی اگلی جنگ کا منصوبہ بنا رہے تھے‘‘: The leader of Islam was making his next war plan. مستشرق (Orientalist) نے یہ بات کسی حوالے کے بغیر صرف اپنے قیاس کی بنیاد پر لکھ دی۔ حالاں کہ دوسری روایات کو دیکھا جائے تو خود روایت کی بنیاد پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام اُس وقت کیا کر رہے تھے۔ وہ دراصل یہ نقشہ بنا رہے تھے کہ آئندہ کس طرح امن قائم کیا جائے: چنانچہ دوسری روایت میں بتایا گیا ہے کہ جس وقت بدر کی یہ دفاعی جنگ ہو رہی تھی، عین اُسی وقت خدا کا فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا کہ خدا نے آپ کو سلام بھیجا ہے۔ یہ سن کر پیغمبر اسلام نے فرمایا: هُوَ السَّّلامُ وَمِنْهُ السَّلَامُ وَإِلَيْهِ السَّلَامُ (البداية والنهاية، جلد 3، صفحہ 267)۔ یعنی خدا سلامتی ہے اور اُسی سے سلامتی ہے، اور اسی کی طرف سلامتی ہے۔
اس دوسری روایت کے مطابق درست طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر پیغمبر اسلام اپنا اگلا منصوبۂ امن بنا رہے تھے:
The leader of Islam was making his next peace plan.
‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues