Al-Risala · June 2021 · page 23

ابتدائی حالات

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۲۳

اور اپنے چچا ابو طالب کی سر پرستی میں رہے۔ قرآن میں خدا نے پیغمبر اسلام کی ابتدائی زندگی کے بارے میں فرمایا: اَلَمۡ یَجِدۡکَ یَتِیۡمًا فَاٰوٰی ۔ وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی (6-7: 93)۔ یعنی کیا اللہ نے تم کو یتیم نہیں پایا، پھر اس نے تم کو ٹھکانا دیا۔ اور تم کو متلاشی پایا تو اس نے تم کو راہ دکھائی۔ قرآن کی اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام کو اپنی ابتدائی زندگی میں جب یتیمی کا تجربہ ہوا تو اس تجربے نے آپ کے اندر یہ احساس پیدا کیا کہ کوئی چیز آپ سے کھوئی گئی ہے۔ یہ احساس آخر کار حق کی تلاش کی صورت میں ابھرا۔ آپ حق کی تلاش میں اتنا زیادہ سرگرداں ہوئے کہ اکثر آپ مکے کے باہر چلے جاتے اور قریبی پہاڑ حرا کے ایک کھوہ میں تنہائی کی حالت میں زندگی کی حقیقت کے بارے میں سوچتے رہتے اور دعا کرتے رہتے۔ اس طرح آپ حق کی تلاش میں سرگرداں تھے کہ خدا نے 610 عیسوی کی ایک رات کو آپ کے پاس فرشتہ بھیجا۔ فرشتے نے آپ کو بتایا کہ خدا نے آپ کو اپنے پیغمبر کی حیثیت سے چن لیا ہے۔ اس کے بعد آپ پر قرآن وقفے وقفے سے اترتا رہا۔ 23 سال کی مدت میں وہ مکمل ہوا۔

پیغمبر اسلام کو خدا کی طرف سے یہ مشن دیا گیا کہ وہ لوگوں کو توحید کا پیغام پہنچائیں۔ یعنی یہ کہ خدا صرف ایک ہے اور انسان کو چاہیے کہ وہ ہر اعتبار سے خدا رخی زندگی (God-oriented life) گزارے۔ یہی انسان کی نجات کا راستہ ہے۔ پیغمبر اسلام اپنی ابتدائی زندگی میں ایک تاجر تھے۔ تاجر کی حیثیت سے ان کی تصویر ایسی بنی کہ لوگ اُن کو الامین (honest person) کہنے لگے۔ اس طرح آپ مکے میں ایک باعزت شخص بن گئے۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ پیغمبری ملنے کے بعد جب آپ نے مکہ کے ایک ٹیلے صفا پر چڑھ کر لوگوں کو پکارا تو لوگ آپ کی بات سننے کے لیے وہاں جمع ہوگئے۔

یہ نبوت کی حیثیت سے آپ کا پہلا خطاب تھا۔ اس خطاب میں آپ نے لوگوں کو بتایا کہ موت کے بعد ہر ایک کو یا تو جنت ملے گی یا جہنم۔ اس لیے تم لوگ موت سے پہلے کے زمانے میں موت کے بعد کے زمانے کی تیاری کرو۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page