ابتدائی حالات
الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۲۴
مکہ میں اُس وقت بت پرستی کا رواج تھا۔ لوگ بت پرستی میں کنڈیشنڈ ہو چکے تھے۔ اس لیے ابتدائی زمانے کی اس تقریر کا لوگوں کے اوپر کوئی اثر نہیں ہوا۔ لوگ اثر لیے بغیر واپس چلے گئے۔ آپ کے چچا عبد العزیٰ (ابو لہب) نے منفی رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا : ”تمہارا بُرا ہو، کیا تم نے یہی کہنے کے لیے ہم کو بلایا تھا (تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ أَمَا جَمَعْتَنَا إِلاَّ لِهَذَا) مستخرج ابی عوانہ، حدیث نمبر 262 مکہ عرب کا مرکزی شہر تھا۔ یہاں قبیلہ قریش کے لوگ رہتے تھے۔ قریش کو کعبہ کی تولیت حاصل تھی، جو کہ پورے عرب کا مذہبی مرکز تھا۔ اس بنا پر قریش کو پورے ملک میں سرداری کا مقام حاصل ہو گیا تھا۔ قریش نے مکہ میں دار الندوہ قائم کر رکھا تھا۔ دار الندوہ گویا قبائلی پارلیمنٹ تھی۔ قریش کے سینئر افراد دار الندوہ کے ممبر ہوتے تھے۔ یہاں تمام اہم اُمور کے فیصلے کیے جاتے تھے۔ پیغمبر اسلام کے دادا عبد المطلب دار الندوہ کے ممتاز ممبروں میں سے ایک تھے۔ عام رواج کے مطابق ، ایک حوصلہ مند لیڈر کے لیے پہلا ٹارگیٹ یہ تھا کہ وہ دار الندوہ کا رُکن بننے کی کوشش کرے ۔ جو گویا اُس وقت کے عرب میں سیاسی طاقت کے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ بظاہر اس کے بغیر عرب یا مکہ میں کوئی بڑا کام نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن پیغمبر اسلام نے دار الندوہ میں داخلے کی کوئی کوشش نہیں کی ۔ حتیٰ کہ انہوں نے یہ مطالبہ بھی نہیں کیا کہ اپنے دادا عبد المطلب کی خالی سیٹ اُنہیں دی جائے۔
دار الندوہ کے معاملے میں پیغمبر اسلام نے وہ پر امن طریقہ اختیار کیا جس کو اسٹیٹس کو ازم (status quoism) کہا جاتا ہے۔ یعنی صورتِ موجودہ سے ٹکراؤ نہ کرنا ، بلکہ جو صورتِ موجودہ ہے اس کو علیٰ حالہ قبول کر لینا۔ مگر پیغمبر اسلام کا اسٹیٹس کو ازم سادہ طور پر صرف اسٹیٹس کو ازم نہ تھا ، بلکہ وہ مثبت اسٹیٹس کو ازم (positive-status quoism) تھا۔ مثبت اسٹیٹس کو ازم یہ ہے کہ آدمی وقت کے نظام سے ٹکراؤ نہ کرے ، بلکہ وہ یہ کرے کہ وقت کے نظام میں موجودہ مواقع کو دریافت کر کے اُسے استعمال کرے۔ اس طریق کار کو فارمولا کی زبان میں اس طرح کہا جا سکتا ہے :
‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues