مدینہ میں اسلام کا داخلہ
الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۲۹
ان کی معاش کا ذریعہ ہی تھی۔
اس بنا پر ایسا ہوا کہ توحید کا مذہب اہل مکہ کے لیے ابتدائی زمانے میں قابلِ قبول نہ ہوسکا۔ مگر اہل مدینہ اس قسم کی نفسیات سے خالی تھے۔ بت پرستی کا خاتمہ ان کے نزدیک صرف ایک مذہبی کلچر کا خاتمہ تھا، نہ کہ ان کے معاشی ذریعے کا خاتمہ۔ چنانچہ مدینے میں پیغمبر اسلام کا پیغام تیزی سے پھیل گیا۔
پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ یہ دراصل ٹکراؤ کے طریقے کو چھوڑ کر امن کے طریقے کو اختیار کرنا تھا۔ پیغمبر اسلام کے اس اصول کو آپ کی اہلیہ حضرت عائشہ نے ان الفاظ میں بیان کیا: مَا خُيِّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6786)۔ یعنی پیغمبر اسلام کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ یہ کرتے کہ مشکل کے مقابلے میں آسان طریقے کا انتخاب فرماتے۔ اس معاملے کی ایک واضح مثال مکہ کے تیرہ سالہ قیام کے آخری دنوں میں آپ کے لیے دو میں سے ایک کا انتخاب تھا۔ یا تو قریش سے جنگی ٹکراؤ کریں، یا خاموشی کے ساتھ پُرامن طور پر مکہ سے نکل کر مدینہ چلے جائیں۔ اُس وقت کے حالات میں پہلا انتخاب مشکل انتخاب (harder option) تھا۔ اس کے مقابلے میں دوسرا انتخاب، یعنی خاموشی سے مدینہ چلے جانا ایک آسان انتخاب (easier option) تھا۔ چنانچہ پیغمبر اسلام نے اپنے اصول کے مطابق اُس کو لے لیا جو آسان تھا، اور اس کو چھوڑ دیا جو مشکل تھا۔
مکہ سے مدینہ کا یہ سفر تقریباً پانچ سو کلومیٹر کا سفر تھا۔ یہ پورا سفر فرنٹ پر گذرا۔ مگر چوں کہ آپ کو معلوم تھا کہ مکہ کے لوگ آپ کو پکڑنے کے لیے آپ کا پیچھا کر رہے ہیں، اس لیے آپ نے ان سے بچاؤ کے لیے مختلف طریقے اپنائے۔ مثلاً مکہ سے رات کے وقت خاموشی سے روانگی۔ سیدھے مدینہ سفر کرنے کے بجائے مخالف سمت کے ایک غیر آباد کھوہ میں تین دن چھپے رہنا۔ عام راستے کے بجائے نئے راستے سے سفر کرنا، وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues