Al-Risala · June 2021 · page 28

مدینہ میں اسلام کا داخلہ

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۲۸

آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ مکہ چھوڑ کر عرب کے دوسرے شہر مدینہ چلے جائیں، جو مکہ سے تقریباً تین سومیل کے فاصلے پر واقع تھا۔

مدینہ میں اسلام کا داخلہ

پیغمبر اسلام ابھی مکہ میں تھے کہ آپ نے اپنے دو ساتھیوں کو مکہ سے مدینہ کے لیے روانہ کیا۔ یہ لوگ وہاں اس لیے گئے تھے تا کہ آپ کا پیغام مدینہ والوں کو پہنچائیں۔ مدینہ والوں کی زبان عربی تھی، جس طرح مکہ والوں کی زبان عربی۔ چنانچہ ان لوگوں نے یہ کیا کہ قرآن کے مختلف حصوں کو پڑھ کر اُنہیں سنانے لگے۔ اسی لیے ان کا نام مقری پڑ گیا (وَكَانَ يُدْعَى الْمُقْرِئُ) معرفۃ الصحابہ لابی نعیم الاصفهانی، جلد 5، صفحہ 2556۔ عربی زبان میں مقری کے معنی ہیں: پڑھ کرسنانے والا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ مکہ کے برعکس مدینہ میں پیغمبر اسلام کا پیغام تیزی سے پھیلنے لگا۔ مدینہ کے تقریباً ہر گھر میں ایسے افراد پیدا ہو گئے جنہوں نے بتوں کی پرستش چھوڑ دی اور پیغمبر اسلام کے دین کو اختیار کر لیا۔ مکہ میں مخالفت اور مدینہ میں موافقت کا یہ دو مختلف تجربہ کیوں ہوا۔ اس کا ایک معلوم سبب تھا۔ وہ یہ کہ مکہ عرب کے صحرائی علاقے میں واقع تھا۔ یہاں زراعت وغیرہ موجود نہیں تھی۔ مکہ والوں کی معیشت بڑی حد تک بت پرستی کے کلچر سے وابستہ تھی۔ کعبہ اُس زمانے میں پورے عرب میں بت پرستی کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس بنا پر ایسا ہوا تھا کہ عرب کے تمام قبائل کے لوگ سال بھر یہاں آتے۔ اس طرح بت پرستی میں مکہ والوں کے لیے ایک اقتصادی قدر(commercial value) پیدا ہو گئی تھی۔ گویا کہ قدیم مکہ میں بتوں کو وہی حیثیت حاصل ہو گئی تھی جس کو موجودہ زمانے میں ٹورسٹ انڈسٹری کہا جاتا ہے۔ اس بنا پر مکہ کے لوگ ڈرتے تھے کہ اگر عرب سے بت پرستی کا خاتمہ ہو جائے تو ان کی ٹورسٹ انڈسٹری‘ ختم ہو جائے گی۔

اہل مدینہ کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ مدینہ عرب کے ایک ایسے علاقے میں واقع تھا جہاں پانی کی کمی نہیں تھی۔ اس بنا پر وہاں زراعت اور باغبانی کا کافی رواج تھا۔ یہاں کے لوگوں کے لیے یہ ڈر نہ تھا کہ اگر بت پرستی کا خاتمہ ہو جائے تو اُن کی معاش کا ذریعہ ختم ہو جائے گا۔ کیوں کہ بت پرستی

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page