Al-Risala · June 2021 · page 31

مدینہ میں اسلام کا داخلہ

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۳۱

اسلام نے مدینہ پہنچ کر مدینہ والوں کے سامنے جو پہلی تقریر کی، وہ اب بھی سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ سیرت ابن ہشام میں اس کو" مدینہ کا پہلا خطبہ" کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے— وَكَانَتْ أَوْلَ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ آپ کے اس خطبے کا خلاصہ یہ ہے— فَمَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَقِيَ وَجْهَهُ مِنْ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ مِنْ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ (سیرت ابن هشام، جلد 1، صفحہ 501)۔ یعنی تم میں سے جو اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانے کی طاقت رکھتا ہو، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے کیوں نہ ہو، وہ ضرور کرے۔

یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ دراصل پیس فل ایکٹوزم کی قیمت تھی۔ اُس وقت کے حالات میں بلاشبہ یہ ایک مشکل کام تھا۔ یہ اپنے منفی جذبات کو مثبت جذبات میں کنورٹ کرنا تھا۔ مگر یہی پیس فل ایکٹوزم کی قیمت ہے۔ اس قیمت کو ادا کیے بغیر کوئی شخص پیس فل ایکٹوزم کے اصول پر قائم نہیں رہ سکتا۔ انسانی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ امن اور تشدد دونوں ہی داخلی احساسات کا اظہار ہوتے ہیں۔ اگر آدمی کے ذہن میں نفرت ہو تو اس کا اظہار متشددانہ (violent) عمل کی صورت میں ہوگا، اور اگر اس کے ذہن میں محبت ہو تو اس کا اظہار ہمیشہ پر امن طریق عمل کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ ایسی حالت میں پیس فل ایکٹوزم کا نام لینا، کوئی سادہ بات نہیں، وہ ایک قربانی کا تقاضا کرتا ہے۔ وہ قربانی یہ کہ آدمی نفرت کے اسباب کے باوجود فریق ثانی سے نفرت نہ کرے، وہ اپنے دماغ کو نفرت والی باتوں سے پوری طرح خالی رکھے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی پر امن طریق کار پر عمل کرنا چاہتا ہو اُس کو سب سے پہلے خود اپنے ذہن کو میانہ روی پر قائم رکھنا ہوگا۔ اُس کو یک طرفہ طور پر یہ کرنا ہوگا کہ فریق ثانی اس کو غصہ دلائے، مگر وہ ہرگز غصہ نہ ہو۔ اس قیمت کو ادا کیے بغیر کوئی شخص پر امن طریق کار کے اصول کو اختیار نہیں کر سکتا۔

پیغمبر اسلام نے معلوم تاریخ میں پہلی بار پر امن ایکٹوزم کا مکمل نمونہ پیش کیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ آپ نے یک طرفہ اعتدال پسندی کی مذکورہ قیمت ادا کی۔ آپ کے ساتھ فریق ثانی کی طرف

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page