Al-Risala · June 2021 · page 32

مدینہ میں اسلام کا داخلہ

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۳۲

سے ہر قسم کی زیادتی کی گئی مگر آپ ان زیادتیوں سے اوپر اٹھ کر سوچتے رہے۔ ان کی زیادتیوں کو نظر انداز کر کے آپ نے مثبت انداز میں اپنے عمل کا نقشہ بنایا۔

پیغمبر اسلام کی یہ تقریر بتاتی ہے کہ آپ مکمل معنوں میں ایک امن پسند انسان تھے۔ کوئی بڑے سے بڑا نا خوش گوار واقعہ آپ کے ذہنی سکون (peace of mind) کو درہم برہم نہیں کر سکتا تھا۔ آپ نے اپنے ذہن کی سطح پر ایک ایسی بلند چیز پالی تھی کہ اس کے بعد ہر دوسری چیز آپ کو غیر اہم معلوم ہوتی تھی۔ آپ کامل معنوں میں ایک مثبت ذہن کے انسان تھے۔ آپ کا دماغ گویا ایک ایسا کارخانہ تھا جس میں داخل ہو کر ایک نیگیٹیو آئٹم بھی پازیٹیو آئٹم بن جاتا تھا۔ آپ کو اپنی زندگی میں جب بھی کوئی ناخوشگوار تجربہ پیش آتا تو آپ کا ذہن فوری طور پر ڈفیوز کر کے اس کو ایک مثبت احساس میں تبدیل کر لیتا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ آپ کے حافظے تک جب کوئی منفی احساس پہنچتا تو وہ بدل کر مثبت احساس بن چکا ہوتا تھا۔ آپ کی شخصیت کامل معنوں میں ایک مثبت شخصیت تھی۔ آپ منفی حالات میں بھی مثبت ذہن کے ساتھ رہنے کی اعلیٰ صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ تشدد کے واقعات کو بدل کر امن کا واقعہ بنانے کی غیر معمولی استعداد رکھتے تھے۔ 622 عیسوی میں جب آپ مدینہ پہنچے اس وقت مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ مشرکین اور یہود بھی موجود تھے۔ گویا کہ اس وقت کا مدینہ ایک ملٹی ریلیجس سوسائٹی کی حیثیت رکھتا تھا۔ ایسے ماحول میں لوگ کس طرح پر امن طور پر رہیں، آپ نے اس کا ایک کامیاب فارمولا دریافت کیا۔ یہ فارمولا اس اصول پر مبنی تھا — ایک کی پیروی کرو، اور سب کا احترام کرو: Follow one and respect all. اس وقت کے مدینہ میں تعداد کے اعتبار سے مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہو چکی تھی۔ اس لیے اُس وقت کے مدینہ میں جو ابتدائی ریاست بنی، اُس کے صدر خود پیغمبر اسلام تھے۔ آپ نے صدر ریاست کی حیثیت سے ایک ڈیکلیریشن (declaration) جاری کیا، جو تاریخ میں صحیفۂ مدینہ یا میثاق مدینہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس ڈیکلیریشن میں بتایا گیا تھا کہ مسلم، مشرک اور یہود، تینوں

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page