Al-Risala · June 2021 · page 34

مدینہ میں اسلام کا داخلہ

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۳۴

(friendly والا رویہ ہو۔

پیغمبر اسلام جب ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ آگئے تو یہ ٹکراؤ کا خاتمہ نہ تھا بلکہ یہ ٹکراؤ کے نئے دور کا آغاز بن گیا۔ پیغمبر اسلام نے خود تو یہ قربانی دی کہ جنگ سے بچنے کے لیے اپنے وطن مکہ کو چھوڑ دیا اور مدینہ جا کر آباد ہو گئے۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ مدینہ آپ کے مشن کے لیے ایک زرخیز علاقہ ثابت ہوا۔ یہاں کے لوگ تیزی سے آپ کے دین میں داخل ہو گئے۔ یہاں تک کہ اہل مدینہ کی اکثریت آپ کی ساتھی بن گئی۔

پیغمبر اسلام کی ہجرت کے بعد یہ ہوا کہ مکہ اور مکہ کے آس پاس دوسرے مسلمان بھی اپنے مقامات کو چھوڑ کر مدینہ آگئے۔ اس طرح مدینہ، پیغمبر اسلام کے مشن کا ایک مضبوط مرکز بن گیا۔ یہاں مدینہ کے اندر اور مدینہ کے باہر، دونوں علاقوں کے لوگ جمع ہو گئے۔ یہ مکہ والوں کے لیے گویا ایک وارننگ تھی۔ وہ اپنے طور پر یہ سوچنے لگے کہ پیغمبر اسلام مدینہ میں اپنے افراد کو اکٹھا کر کے ایک بڑی قوت بنائیں گے اور مکہ کو واپس لینے کے لیے مکہ پر حملہ کر دیں گے۔ اس لیے مکہ والوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ مدینہ میں پیغمبر اسلام کی طاقت کو توڑ کر اس کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مکہ والوں نے عوامی عطیات سے پچاس ہزار دینار اکٹھا کیے، اور تیاری شروع کر دی۔ یہاں تک کہ انہوں نے مدینہ پر باقاعدہ حملے کا منصوبہ بنا لیا۔ حتیٰ کہ ایک ہزار کی تعداد میں مسلح فوج لے کر روانہ ہوئے تاکہ مدینہ کی جدید مسلم ریاست کا خاتمہ کر دیں۔ اس طرح مدنی دور میں غزوات (لڑائیوں) کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سیرت کی کتابوں میں تقریباً 85 غزوات شمار کیے گئے ہیں۔ مگر یہ غزوات فریق ثانی کی طرف سے غزوات تھے اور پیغمبر اسلام کی طرف سے اعراض۔ پیغمبر اسلام کی پالیسی یہ تھی کہ فریق ثانی کے جنگی اقدام کا مقابلہ پر امن تدبیروں سے کریں۔ اس پر امن تدبیر کے لیے امن پسند انسانوں کی ایک تربیت یافتہ ٹیم درکار تھی۔ اصحاب رسول نے یہی کام کیا۔ چنانچہ تشدد کا مقابلہ امن کے ذریعہ کرنے کی تدبیر اس طرح کامیاب ہوئی کہ بیس سال کی مختصر مدت میں پورا عرب اسلام کے کنٹرول میں آگیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page