مدینہ میں اسلام کا داخلہ
الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۳۵
اس پرامن تدبیری مہم کا ایک خاص جز ء یہ تھا کہ پیغمبر اسلام نے عرب کے تمام قبائل سے معاہدے کر لیے، اور تمام قبائل کو امن کا پابند بنا لیا۔ یہ ایک نیا طریقہ تھا جس کو معاہدہ ڈپلومیسی کہا جا سکتا ہے۔ انہیں تدبیروں کا نتیجہ یہ تھا کہ عرب جیسے جنگ جُو ملک میں مختصر مدت کے اندر ایک ایسا انقلاب آ گیا جس کو بلا شبہ ایک غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) کہا جا سکتا ہے۔ صبر کا فلسفہ پیغمبر اسلام کی تعلیمات میں صبر (patience) کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن میں تقریباً ایک سو دس آیتیں ہیں جن میں صبر کے الفاظ کو استعمال کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ صبر ہی پر کامیابی کا مدار رکھا گیا ہے ۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ اے لوگو! صبر کرو تا کہ تم فلاح پاؤ ( آل عمران، 3:200 )۔ اسی طرح فرمایا کہ امامت یا لیڈرشپ میں کامیابی کا راز صبر ہے (السجدہ، 32:24 )۔ اسی حقیقت کو پیغمبر اسلام نے اپنی ایک لمبی حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا: وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ (مسند احمد، حدیث نمبر 2803 ) ۔ یعنی جان لو کہ کامیابی صبر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ صبر نہیں تو کامیابی بھی نہیں۔ کامیابی کا درخت ہمیشہ صبر کی زمین پر اُگتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا کے تمام پیسیفسٹ (pacifist) یا پیس فل ایکٹوسٹ (peaceful activist) اپنے نشانے کو حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس کا مشترک سبب یہ ہے کہ انہوں نے امن کو دریافت کیا مگر وہ صبر کو دریافت نہ کر سکے۔ حالاں کہ صابرانہ روش کے بغیر پرامن تحریک کو چلانا ممکن نہیں۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ لوگ کسی کو اپنا دشمن قرار دیتے ہیں اور اس کے بعد پیس فل ایکٹوزم کے اصول پر اس کے خلاف تحریک چلاتے ہیں۔ جیسا کہ نیلسن منڈیلا نے ساؤتھ افریقہ میں کیا۔ انہوں نے ساؤتھ افریقہ کے سفید فام مکینوں کے خلاف نفرت پھیلائی اور پھر کہا کہ ہم ان کو ساؤتھ افریقہ سے نکالنے کے لیے پیس فل تحریک چلائیں گے۔ حالاں کہ دونوں ایک دوسرے کی نفی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نیلسن منڈیلا کی تحریک کامیاب نہ ہوسکی۔ کسی گروہ کے مقابلے میں پیس فل ایکٹوزم کے اصول پر تحریک چلانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے دل میں اس کے خلاف منفی جذبات نہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues