Al-Risala · June 2021 · page 41

مدینہ میں اسلام کا داخلہ

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۴۱

ذہن سازی کے اس عمل کو قرآن میں تزکیہ کہا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اہم کام یہ تھا کہ وہ لوگوں کا تزکیہ کرے (البقرہ، 2:129)۔ یعنی روح کی تطہیر (purification of the soul)۔ اس تزکیہ کا طریقہ کیا تھا۔ یہ پیغمبر اسلام کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: اِنَّ الْمُؤْمِنَ اِذَا اَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ، فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ، صُقِلَ قَلْبُهُ، وَإِنْ زَادَ زَادَتْ، حَتَّى يَعْلُوَ قَلْبُهُ (مسند احمد، حدیث نمبر 7952)۔ یعنی مؤمن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک کالا دھبہ پڑ جاتا ہے۔ اگروہ تو بہ کرے اور اس کو مٹادے اور استغفار کرے تو اس کا دل دھبے سے پاک ہو جاتا ہے۔ اور اگر دھبے میں مزید اضافہ ہو تو وہ بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ اس حدیث میں پیغمبر اسلام نے ایک اہم نفسیاتی حقیقت بتائی ہے۔ نفسیاتی مطالعہ بتا تا ہے کہ انسان کے ذہن میں جب کوئی بات آتی ہے تو وہ ہمیشہ کے لیے اس کے حافظے میں اس طرح محفوظ ہو جاتی ہے کہ پھر وہ کبھی نہیں نکلتی۔ نفسیات کا مطالعہ مزید بتا تا ہے کہ انسانی ذہن کے دو بڑے خانے ہیں۔ ایک شعور، اور دوسرا، لاشعور۔ جب کوئی بات انسانی ذہن میں آتی ہے تو وہ پہلے اس کے زندہ شعور کے خانے میں آتی ہے۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے وہ لاشعور کے خانے میں چلی جاتی ہے۔

ایک خانے سے دوسرے خانے میں جانے کا یہ عمل خاص طور پر رات کے وقت ہوتا ہے۔ اس طرح اگر چہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بات جو آج زندہ حافظہ (active memory) میں ہے، بعد کو وہ دماغ کے پچھلے خانے میں جا کر بظاہر ایک بھولی ہوئی بات بن جاتی ہے۔ مگر جہاں تک شخصیت انسانی کا تعلق ہے، وہ لازمی طور پر اس کا جزء بنتی رہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شخصیت انسانی کا براہ راست تعلق انسانی تھنکنگ سے ہے۔ جیسی سوچ ویسی شخصیت۔

پیغمبر اسلام کے مذکورہ قول کا مطالعہ جدید نفسیاتی تحقیق کی روشنی میں کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس قول رسول میں پیس فل تھنکنگ اور پیس فل ایکشنزرم کا اصل راز بتا دیا گیا ہے۔ صحیح معنوں میں

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page