Al-Risala · June 2021 · page 40

مدینہ میں اسلام کا داخلہ

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۴۰

کیا ہے۔ وہ دراصل مایوسی کا آخری درجہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے مخالف پر غلبہ حاصل نہیں کر سکتا، اس لیے وہ یہ چاہنے لگتا ہے کہ فریقِ ثانی کو پریشان کرنے کی خاطر خود اپنے آپ کو ہلاک کرے اور پھر اپنے آپ کو یہ کہہ کر مطمئن کرلے کہ میں نے ایسا اس لیے کیا کہ میں شہید ہو جاؤں۔

دشمن کے مقابلے میں خود کش بمباری دراصل یہ ہے کہ آدمی کے سامنے پیس فل ایکشن کا انتخاب کھلا ہوا ہو مگر نفرت اور انتقام کے جذبات میں مبتلا ہو کر وہ اس کو نقصان پہنچانے کے لیے اندھا ہو جائے اور اس اندھے پن میں وہ خود اپنے ہی کو ہلاک کر ڈالے۔ کوئی بھی صورتِ حال جہاں کوئی شخص خودکش بمباری کا چانس لیتا ہے، وہاں یقینی طور پر اس کے لیے پُر امن طریقِ کار کا راستہ کھلا ہوتا ہے۔ مگر وہ اس کو دیکھ نہیں پاتا۔

اصل یہ ہے کہ پُر امن طریقِ کار کا انتخاب کرنے کے لیے پہلی ضروری شرط یہ ہے کہ آدمی کا ذہن نفرت اور انتقام کے جذبات سے خالی ہو۔ وہ غیر متاثر انداز میں واقعات کا تجزیہ کرے۔ پیغمبر اسلام کے الفاظ میں، وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھ سکے جیسا کہ وہ ہیں (أَرِنَا الْأَشْيَاءَ كَمَا هِيَ) تفسير الرازی، جلد 1، صفحہ 119۔ پُر امن عمل ایک مثبت عمل ہے اور مثبت عمل کی اہمیت کو ایک مثبت ذہن ہی سمجھ سکتا ہے، اور اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔ امن پسندانہ سوچ پیس فل ایکٹوزم بظاہر ایک خارجی عمل ہے، مگر وہ مکمل طور پر ایک داخلی شعور کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ صرف پیس فل مائنڈ ہے جو پیس فل ایکٹوزم کی بات سوچ سکتا ہے اور اس کو درست طور پر عمل میں لاسکتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے اس حقیقت کو جانا۔ انہوں نے اس سلسلے میں یہ کیا کہ سب سے پہلے پیس فل مائنڈ بنایا۔ اس کے بعد ہی وہ اس قابل ہو سکے کہ پیس فل ایکٹوزم کے اصول پر اپنی تحریک چلا سکیں۔ اسی حقیقت کو آپ نے مذہبی زبان میں اس طرح بیان کیا ہے: جب آدمی کا دل درست ہوتا ہے تو اس کے تمام اعمال درست ہو جاتے ہیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 52)۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page