Al-Risala · June 2021 · page 45

مدینہ میں اسلام کا داخلہ

الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۴۵

تم اس کے ساتھ احسن طریقے پر معاملہ کرو، عین ممکن ہے کہ وہ کسی دن تمہارا دوست بن جائے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں: وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34)۔ یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کو جنگ کی اجازت صرف اس وقت ہے جب کہ فریق مخالف کی طرف سے حملہ کا آغاز ہو چکا ہو۔ لیکن جو اس جنگ میں شامل نہیں ہیں، ان کو بالکل بھی تکلیف نہیں دی جائے گی، خواہ وہ دل میں دشمنی رکھتا ہو۔ بین اقوامی معاملات میں یہی مساویانہ سلوک ساری دنیا کا مسلمہ اصول ہے اور اسلامی شریعت میں بھی مساویانہ سلوک کے اسی اصول کو اختیار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ قرآن بیک وقت ایک واحد کتاب کی صورت میں نہیں اترا۔ بلکہ وہ حالات کے اعتبار سے 23 سال کے دوران اترا۔ 23 سال کی اس مدت کو عمومی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک 20 سال، دوسرے 3 سال۔ 23 سالہ مدت نزول میں 20 سال گویا امن کے سال تھے اور تقریباً 3 سال جنگی حالات کے سال۔ آپ نے جن 24 آیتوں کا حوالہ دیا ہے وہ مذکورہ تقسیم کے مطابق 3 سال والے ایمرجنسی کے حالات میں اتریں۔ قرآن کی دوسری آیتیں 20 سال والی مدت میں اتریں اور وہ سب کی سب امن اور انصاف اور انسانیت جیسی مثبت تعلیمات پر مشتمل ہیں۔ سوال قرآن میں کئی آیتیں ایسی ہیں جو مسلمانوں سے کہتی ہیں کہ کافروں کو قتل کرو۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان جہادی ہو گئے ہیں اور غیر مسلموں کو قتل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ مثلاً قرآن میں یہ آیت ہے: وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمُ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ فَإِنْ قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ كَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ (2:191)۔ یعنی اور قتل کرو ان کو جس جگہ پاؤ اور نکال دو ان کو جہاں سے انھوں نے تم کو نکالا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues

Printed page