مدینہ میں اسلام کا داخلہ
الرسالہ، جون ۲۰۲۱، صفحہ ۴۶
اور فتنہ سخت تر ہے قتل سے۔ اور ان سے مسجد حرام کے پاس نہ لڑ و جب تک کہ وہ تم سے اس میں جنگ نہ چھیڑیں۔ پس اگر وہ تم سے جنگ چھیڑیں تو ان کو قتل کرو۔ یہی سزا ہے کافروں کی۔ سوال یہ ہے کہ قرآن میں جب تک اس طرح کی آیتیں موجود ہیں تو مسلمانوں کا غیر مسلموں کے ساتھ شانتی سے رہنا کیسے ممکن ہے۔ (اشوک سنگھل، نئی دہلی)
جواب
یہ آیت خود ہی یہ بتا رہی ہے کہ جنگ کا حکم کافر کے خلاف نہیں ہے بلکہ مقاتل (حملہ آور) کے خلاف ہے۔ جیسا کہ خود اسی آیت میں کہا گیا ہے: فَإِنْ قَتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ (پس اگر وہ جنگ چھیڑ دیں تو تم بھی دفاع میں اُن سے جنگ کرو)۔ اسی طرح مذکورہ آیت سے پہلے یہ آیت ہے: وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا (2:190) ۔ یعنی جو لوگ تم سے جنگ کرتے ہیں اُن سے تم (دفاع میں) جنگ کرو، اور تم خود جارحیت (aggression) نہ کرو۔ چنانچہ قرآن اور پیغمبر اسلام کی سنت کا مطالعہ کیا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صرف دفاعی جنگ جائز ہے اور اُس کا اختیار بھی صرف حاکم وقت کو حاصل ہوتا ہے، کسی غیر حکومتی گروہ کو مسلح جدوجہد (armed struggle) کی ہرگز اجازت نہیں۔ اسی طرح اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں قتال (جنگ) کا حکم ایک عارضی (temporary) سبب کے لیے ہے، وہ اسلام کا کوئی ایسا حکم نہیں ہے، جو ہر لمحہ جاری رہے۔ جب دفاع کا سبب ختم ہو جائے تو جنگ کا حکم بھی عملاً موقوف (suspend) ہو جائے گا، یعنی جب امن کا زمانہ ہو تو جنگ نہیں کی جائے گی۔ یہی اسلام کی ابتدائی تاریخ میں پیش آیا۔ اسلام کے ابتدائی دور میں، ماضی کے تسلسل (continuation) کے تحت جنگ کی صورت پیش آئی۔ یعنی انھوں نے پیغمبر اسلام کے خلاف ناحق جنگ چھیڑ دی اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفاعی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ مگر جنگ کا یہ حکم عارضی تھا۔ قرآن کے الفاظ میں، جب فریق مخالف نے اپنا اوزار (ہتھیار) رکھ دیا تو جنگ کا خاتمہ ہو گیا (محمد، اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ہے کہ قرآن میں جن چند مقامات پر کافر کا لفظ آیا ہے، اُس سے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2021 All issues