Al-Risala · January 2021 · page 4

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۴

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۴

مولانا عبدالرشید ندوی نے ایک دلچسپ واقعہ بتایا۔ بیسویں صدی آغاز میں ایک بڑے دینی ادارے کا ایک وفد برما گیا۔ اس وفد میں کئی بڑے علما اور دوسرے بڑے مسلم رہنما شامل تھے۔ اُس زمانے میں ہندوستان کے دینی ادارے کے چندہ (donation) کے لیے برما اور ملایا (Malaya) جایا کرتے تھے۔

اس وقت ہندوستان کے لوگ کثیر تعداد میں وہاں رہتے تھے، لیکن ان میں اکثریت بدعتی خیال لوگوں کی تھی۔ یہ وفد جب رنگون پہنچا تو ان لوگوں نے پوسٹروں وغیرہ کے ذریعے خوب مشہور کیا کہ یہ وہابی ہیں، یہ کافر ہیں، وغیرہ۔ ان کو ہرگز چندہ نہ دیا جائے۔ جو چندہ دے گا وہ گنہ گار ہوگا۔ بدعتی طبقہ کے پروپیگنڈوں سے فضا بہت خراب ہو گئی۔

تاہم جلسہ کیا گیا۔ سب سے پہلے ایک مقرر آئے۔ ان کے نام میں سلیمان لگا ہوا تھا۔ وہ بہت خوش بیان مقرر تھے۔ انھوں نے کہا کہ بھائیو، اور لوگوں کو تو تم جانو اور وہ جانیں۔ مگر جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے بارے میں خود اللہ تعالیٰ نے قرآن میں پہلے ہی براءت اتار دی ہے۔ چنانچہ قرآن میں یہ آیت (2:102) موجود ہے:

وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا یعنی سلیمان نے کفر نہیں کیا، بلکہ یہ شیاطین تھے جنھوں نے کفر کیا۔ وہ بہت خوش گلو تھے۔ انھوں نے قرآن کی آیتیں پڑھیں ۔ مولانا روم (1273-1207ء) کے اشعار سنائے۔ اب فضا بالکل بدل گئی۔ آخر میں انھوں نے لوگوں کو کھڑا کر کے سلام پڑھوایا۔ اس کے بعد بالکل تصدیق ہوگئی کہ یہ لوگ ”وہابی“ نہیں ہیں۔ اس کے بعد رنگون میں خوب چندہ ہوا۔ تیرہ لاکھ روپے جمع ہوئے۔ لوگوں کی مایوسی دوبارہ خوشی میں تبدیل ہوگئی۔

عوامی مقبولیت حاصل کرنے میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اس قسم کے الفاظ بولنا جانتے ہوں۔ تاہم یہ مقبولیت وقتی ہوتی ہے۔ نیز اس کے ذریعہ کوئی گہرا تعمیری کام نہیں کیا جا سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues

Printed page