الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۵
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۵
علمِ حساب کے ایک ماہر نے کہا ہے:
I can prove anything by statistics— except the truth. یعنی میں حساب اور شماریات کے ذریعے ہر چیز کو ثابت کر سکتا ہوں سوائے سچائی کے۔ شماریات کا علم موجودہ زمانے میں بہت ترقی کر گیا ہے۔ شماریات کی زبان میں کوئی بات کہہ دی جائے تو سمجھا جاتا ہے کہ اس کو واقعہ کی زبان میں کہہ دیا گیا۔ حالاں کہ یہ محض گنتیوں کا ایک شعبدہ ہوتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شماریات سے ثابت شدہ چیز کا حقیقت واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کوئی چیز گنتی کی زبان میں ثابت ہو جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حقیقت کے طور پر بھی ثابت ہو گئی۔
ایک صاحب دفتر میں تشریف لائے۔ انھوں نے کہا کہ میں الرسالہ میں مضمون شائع کروانا چاہتا ہوں۔ اس کی کیا شرائط ہیں۔ میں نے کہا: آپ دس سال عربی پڑھیے۔ دس سال انگریزی پڑھیے۔ دس سال لکھنے کی مشق کیجیے۔ اس کے بعد آپ کا مضمون الرسالہ میں شائع ہو جائے گا۔ اس کو سن کر وہ کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے اور پھر اٹھ کر چلے گئے۔
آج کل مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ محنت کیے بغیر نتیجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور محنت کے بغیر کسی نتیجہ کا اس دنیا میں ملنا ممکن نہیں۔ لکھنا مشکل ترین آرٹ ہے۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ جو شخص بھی قلم پکڑنا جانتا ہو، وہ سمجھتا ہے کہ میں لکھنا بھی جانتا ہوں۔ چنانچہ غیر معیاری مضامین اور غیر معیاری کتابوں کی بھر مار ہو رہی ہے۔ اس کے برعکس، معیاری کتابیں بہ مشکل ہی دیکھنے میں آتی ہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ ان سے کسی نے میرے بارے میں کہا کہ ان کا کیا کہنا ہے۔ وہ تو اب فلاں صاحب کے ٹکر کے ہو گئے ہیں، یعنی مادی اعتبار سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues