هذا المسجد وقف لعامة المسلمين
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۳۱
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں اپنی دعوت کا آغاز کیا۔ وہاں آپ تقریباً 13 سال رہے۔ مکہ والوں نے آپ کی سخت مخالفت کی۔ یہاں تک کہ وہ آپ کو ہلاکت کے درپے ہو گئے۔ عین اسی وقت مکی دور کے آخری زمانے میں قرآن میں سورہ یوسف اتری۔ اس میں بتایا گیا کہ یوسف کے بھائی یوسف کے دشمن ہو گئے۔ انھوں نے ان کو ختم کرنے کے لیے ایک سنسان مقام پر لے جا کر ان کو اندھے کنویں میں ڈال دیا۔ یہاں تاجروں نے ان کو کنویں سے نکالا، اور ان کو لے جا کر مصر پہنچا دیا۔ وہاں ان کے لیے اعلیٰ ترقی کی نئی راہیں کھلیں۔ ایک اسوء القصص احسن القصص میں تبدیل ہو گیا۔
مکی دور کے آخر میں اس سورہ کا اترنا اس بات کا اشارہ تھا کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ خدا کی مدد سے یہی معاملہ پیش آئے گا۔ چنانچہ یہی ہوا کہ مکہ والوں نے آپ کو ہلاک کرنے کے غار میں ڈالنا چاہا مگر عین اسی وقت مدینہ میں آپ کے قدرداں پیدا ہو گئے۔ آپ ان کی دعوت پر مکہ سے مدینہ پہنچ گئے اور وہاں آپ نے اسلام کی نئی تاریخ بنائی۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا میرے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ معاملہ پیش آنے والا ہے۔ میں 1956 سے 1962 تک جماعت اسلامی کے مرکزی شعبہ تصنیف و تالیف سے وابستہ تھا۔ اس کے بعد 1963 سے 1966 تک مجلس تحقیقات ونشریات اسلام (ندوة العلماء) لکھنو سے وابستہ رہا۔ دونوں جگہ یہ صورت پیش آئی کہ وہ لوگ میری تنقیدوں سے برہم ہو گئے۔ میرا غیر مصالحانہ انداز ان کے لیے ناقابل برداشت ہو گیا۔ چنانچہ دونوں جگہ سے علیحدگی عمل میں آئی۔ اس کے بعد جمعیۃ علماء کی دعوت پر میں 1967 میں دلی آیا، اور جمعیۃ علما ہند کے ہفت روزہ اخبار الجمعیۃ سے وابستہ رہا۔ یہاں بھی ابتدائی چند سالوں کے بعد اختلافات پیدا ہو گئے۔ یہاں تک کہ 1974 میں انھوں نے مجھ کو الگ کر دیا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے دلی کے مرکزی شہر میں ٹھہرانے کا انتظام کیا اور ایسے اسباب
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues