Al-Risala · January 2021 · page 32

هذا المسجد وقف لعامة المسلمين

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۳۲

پیدا کیے کہ 1976 میں الرساله جاری ہوا۔ اور اب خدا کے فضل سے اسلامی مرکز کی صورت میں اس نے ایک مستقل ادارے کی شکل اختیار کرلی ہے اور لوگوں کی مخالفتوں کے باوجود وہ دن بدن ترقی کررہا ہے۔ شاید تاریخ دوبارہ یہ منظر دیکھنے والی ہے ۔ ایک اُسوءُ الالقصص خدا کی مدد سے احسن قصص میں تبدیل ہوگیا۔

موجودہ زمانے کے مسلم قائدین کا معاملہ نہایت عجیب ہے۔ وہ بیک وقت نہایت کامیاب تھے، اور اسی کے ساتھ نہایت ناکام بھی۔ مثلاً 1952 میں مصر کی اخوان المسلمون جنرل محمد نجیب (1901-1984) اور جمال عبدالناصر حسین (1970-1918) کے ساتھ مل کر مصر سے شاہ فاروق (1920-1965) کو معزول کرنے میں پوری طرح کامیاب ہوئے۔ لیکن اس کے بعد انھوں نے مصر کے الیکشن میں حصہ لیا تو وہ بالکل ناکام ہو گئے۔ جماعت اسلامی پاکستان جنرل ایوب خان (1907-1974) اور ذوالفقار علی بھٹو (1979-1928) کی حکومت ختم کرنے میں نہایت کامیاب رہی۔ مگر جب وہ لوگ الیکشن کے میدان میں آئے تو وہ کامیاب نہ ہو سکے، وغیرہ وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص جب شاہ فاروق یا ایوب اور بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اُٹھتا ہے تو وہ اکیلا نہیں ہوتا۔ پوری اپوزیشن اور تمام مخالف حکومت عناصر اس کے ساتھ شریک ہوجاتے ہیں۔ حکومت کے خلاف مہم میں آدمی کی طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قائدین اینٹی حکومت مہم میں کامیاب رہے ۔ اس کے بعد جب یہ لوگ ملک میں خود اپنا اقتدار قائم کرنے کے لیے اُٹھے تو اس وقت وہ تنہا تھے۔ اس دوسری مہم میں انھیں اپنی تنہا قوت سے کامیاب ہونا تھا۔ چوں کہ ان کی تنہا قوت بہت کم تھی اس لیے وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اینٹی حکومت مہم میں جو مقبولیت حاصل ہوتی ہے، وہ بلاشبہ جھوٹی مقبولیت ہے۔ اس قسم کی مہم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ محض شخصی لیڈری ہے، نہ کہ کوئی واقعی کام۔ اینٹی حکومت مہم میں فوراً مقبولیت حاصل ہو جاتی ہے، اس لیے لوگ تیزی سے اس کی طرف دوڑتے ہیں۔ اس کے مقابلے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues

Printed page