Al-Risala · August 2021 · page 6

پیش لفظ

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۶

پیش لفظ

21 اپریل 2021 کی رات کو میرے والد، مولانا وحید الدین خاں کا انتقال ہو گیا۔ وہ میرے والد ہی نہیں تھے، بلکہ وہ میرے استاد بھی تھے۔ وہ مادی جسم کے اعتبار سے اب ہمارے ساتھ نہیں ہیں، لیکن معنوی اعتبار سے مشن کے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔ مولانا کی تحریریں اور ان کا مشن ہمارے ساتھ ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 24 جون 1967 کو جب گنگا جمنا ایکسپریس، پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن پر رکی تو مولانا اپنے ہاتھ میں ایک باسکٹ لیے ہوئے ٹرین سے اترے۔ باسکٹ میں کچھ کھانے کی چیزیں تھیں، جسے میری والدہ نے زاد سفر کے طور پر تیار کیا تھا، کچھ کپڑے اور تقریباً دو سو روپے تھے۔ مولانا ایک ہاتھ میں مجھے تھامے ہوئے تھے، اور دوسرے ہاتھ سے باسکٹ کو۔ میں اس وقت تقریباً سات سال کا تھا۔ اس طرح مولانا اعظم گڑھ، یوپی کے ایک دور دراز گاؤں سے دہلی شہر پہنچے۔ یہ بظاہر ایک عام سفر تھا مگر یہی سفر آگے چل کر الرسالہ مشن کی تاریخ بننے والا تھا۔ دہلی میں مولانا نے ہفتہ وار اردو میگزین الجمعیۃ کے مدیر کے طور پر کام شروع کیا۔ کچھ سالوں کے بعد میگزین کی اشاعت بند ہوگئی۔ چنانچہ مولانا نے اپنے آبائی وطن لوٹ جانے کا ارادہ کیا، لیکن میری والدہ محترمہ نے گاؤں واپس جانے کے اس خیال سے اختلاف کیا اور کہا کہ ہم گاؤں واپس نہیں جائیں گے۔ کیونکہ ہمارے بچے یہاں پڑھ رہے ہیں۔ اس وقت بھائی صاحب (ڈاکٹر ظفر الاسلام خان) نے بھی دہلی میں ٹھہرنے کا مشورہ دیا، اور یہ بھی مشورہ دیا کہ ہم خود ایک میگزین شروع کریں۔ اس کے بعد انھوں نے ہی اس میگزین کا نام الرسالہ تجویز کیا۔ اس طرح بھائی صاحب کی تحریک اور مالی تعاون سے ہم نے اکتوبر 1976 میں الرسالہ کی اشاعت شروع کی۔ اس وقت میں دسویں کلاس میں پڑھ رہا تھا۔ مولانا نے مجھے یہ ذمہ داری دی کہ میں ہر ماہ الرسالہ چھپواؤں اور اسے پوسٹ کروں۔ اسی طرح جب الرسالہ شائع ہونا شروع ہوا تو آپا (ڈاکٹر فریدہ خانم) نے خط و کتابت کرنا اور الرسالہ کے مضامین کو انگریزی میں ترجمہ کرنا شروع کیا۔ پھر الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن نکلنے لگا جس کو خواجہ کلیم الدین صاحب ناچیز یا سے بھی شائع کرانے لگے ۔ چند سالوں کے بعد اس انگریزی ایڈیشن کو ہارون شیخ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page