Al-Risala · January 2021 · page 33

هذا المسجد وقف لعامة المسلمين

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۳۳

میں مثبت مہم میں عوامی مقبولیت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لیے اس کا میدان سونا پڑا ہوا ہے۔ اس میدان میں کوئی دکھائی نہیں دیتا۔

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے یہ شکایت کی کہ الرسالہ میں سلف پر یز (self-praise) ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی مثال دیجیے۔ انھوں نے الرسالہ میں شائع شدہ ایک خط کا ذکر کیا جس میں الرسالہ کے زبان و بیان پر پسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ یہ بتائیے کہ سلف پر یز کا مطلب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اپنی تعریف آپ کرنا۔ میں نے کہا کہ آپ نے جس خط کا حوالہ دیا ہے، وہ دوسرے شخص کا خط ہے پھر یہ اپنی تعریف آپ کرنا کیسے ہوا۔ اسی مجلس میں انھوں نے اپنے گھر کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ گھر کے اخراجات پہلے میں خود کرتا تھا مگر میں نے دیکھا کہ میرے ہاتھ سے زیادہ خرچ ہو جاتا ہے اس لیے میں نے یہ کام اپنی بیوی کے حوالے کر دیا۔ وہ، ماشاء اللہ، نہایت احتیاط سے خرچ کرتی ہیں۔ اب ہمارے گھر کا ماہانہ خرچ پہلے سے کم ہو گیا ہے، اور پس انداز کی جانے والی رقم کی مقدار بڑھ گئی ہے۔ میں نے سوچا کہ آدمی بھی کیسا عجیب ہے۔ ایک معاملے میں اس کا رویہ کچھ ہے، اور دوسرے معاملے میں اس کا رویہ کچھ دوسرا۔ وہ اپنے پیسے کو خرچ کرنے کے معاملے میں نہایت کفایت شعار ہے مگر اپنے الفاظ کو خرچ کرنے کے معاملے میں نہایت فیاض۔ مذکورہ بزرگ الرسالہ پر تبصرہ کرنے کے لیے اپنے الفاظ کے ذخیرے کو بے حساب خرچ کر رہے ہیں، مگر وہی بزرگ اپنے جیب کے پیسہ کو خرچ کرنے کے معاملے میں حد درجہ محتاط اور کفایت شعار نے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی رقم کو سوچ سمجھ کر خرچ کرتے ہیں، اور اپنے الفاظ کو سوچے بغیر۔

ڈاکٹر انوار احمد (کو ہنڈہ، اعظم گڑھ) کے ایک خط کے جواب میں لکھا:

آپ کا خط مورخہ 27 مارچ ملا۔ حالات سے آگاہی ہوئی۔ مومن اس چیز میں جیتا ہے، جو اس

‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues

Printed page