مولانا کی آئیڈیالوجی
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۴۲
اپنی دریافت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مدرسہ کی تعلیم اور اساتذہ نے ان کو اس دریافت کی طرف ضرور گامزن کیا ہے۔ مگر مدرسہ کی تعلیم سے فراغت کے بعد وہ خدا کی دریافت میں ایک عرصہ دراز سرگرداں رہے۔ اس کے لئے انہوں نے خود سے انگریزی سیکھی۔ اس کے بعد انہوں مغربی علوم کی حقیقت کو جاننے کی غرض سے ان کا گہرا مطالعہ کیا۔ ریاضی اور سائنس کو مذہبی علوم کی نسبت سے پڑھا۔ تب جا کر انہوں نے نص اسلام سے ماخوذ مذہب اسلام کو جدید انسان کے لئے اسلوب جدید میں پیش کیا۔ مولانا کی اس بات کی تصدیق ان کی دوسو سے زائد کتابوں سے ہو جاتی ہے۔ اس امریکی سفر کے دوران مندرجہ بالا باتیں New York سے North Carolina Raleigh کے راستے میں بتائیں۔ انہوں نے الرسالہ میگزین کو شروع کرنے میں کتنی دقت پیش آئی اس کا قصہ بھی بیان فرمایا۔ ان کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ مولانا کا الرسالہ نہیں چل پائے گا وہ اس لئے کہ عوام informative مضامین پسند کرتے ہیں اور مولانا کے مضامین suggestive ہوتے ہیں اور لوگ suggestion یعنی نصیحت کو قبول نہیں کرتے ہیں۔ اس لئے آپ کی میگزین پسند نہیں کی جائے گی۔ مولانا نے بتایا اب چونکہ ان کے ذہن میں مضامین کی بارش ہوتی ہے، جن کا اسلوب بھی عصری ہوتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے رسالہ کو Reader's Digest کے اصول پر نکالا تھا۔ اسی اصول کو اپنانے کی وجہ سے الرسالہ کامیاب ہوا۔
میں نے مولانا کو 1986 کی اپنی پہلی ملاقات میں بتایا تھا کہ آپ کی writing آج کے فکری مستوی کے مطابق ہے، مگر عام مسلمانوں کا ذہن اس کے لئے ابھی تیار نہیں ہے۔ اس لئے بہت سارے مسلمان اپنی ناسمجھی کی وجہ سے اس کی مخالفت کریں گے۔ الحمدللہ، اب مولانا کا لٹریچر بہت زیادہ مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ ساری دنیا میں اس کو پڑھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہو گئی ہے۔ اس لٹریچر کو پھیلانے کے لئے دنیا بھر میں teams بن گئی ہیں اور وہ لوگ رضا کارانہ طور پر اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔ میری اسٹڈی کے مطابق، مولانا نے اپنی مجتہدانہ کوششوں سے قرآن سنت کے بہت سارے اصولوں کو عصری اسلوب میں redefine کر کے reapply کیا ہے، اور علماء کو توجہ دلائی ہے کہ وہ اس کام کو مزید آگے بڑھائیں۔ اس کے لئے ملاحظہ کیجئے ان کی کتابیں تجدید دین، فکر اسلامی، دین و شریعت، اجتہادی مسائل وغیرہ۔ اسلام بنیادی طور پر
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues