Done is Undone
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۳۷
ہے ۔ وہ 1572 میں پیدا ہوا اور 1631 میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کی قبر لندن میں ہے۔ انگریزی شاعری کا ایک دبستان فکر ہے، جس کو مابعد الطبیعاتی اسکول (Metaphysical school of poetry) کہا جاتا ہے۔ جان ڈن اسی دبستان فکر کا ممتاز شاعر شمار کیا جاتا ہے۔ وہ صوفیانہ مزاج کا آدمی تھا۔ اس کا ایک شعر ہے:
Done is Undone
یعنی ڈن برباد ہو گیا۔ تاہم صوتی اعتبار سے Done is Undone کا دوسرا لفظی مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ جو ہوا وہ نہیں ہوا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جس چیز کو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ہو گیا، وہ بھی اب تک نا کردہ (undone) پڑا ہے۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں پر یہ بات پوری طرح صادق آتی ہے۔ ان کے سب کام ابھی تک نا کردہ پڑے ہوئے ہیں۔ مثلاً بین الاقوامی زبانوں میں اسلامی لٹریچر کا ترجمہ ـــ موجودہ زمانے میں عملاً یہ ہوا کہ بڑے بڑے قابل لوگ سیاسی اور ہنگامی کاموں میں پڑے رہے۔ اور نسبتاً چھوٹے اور کم تر درجہ کے لوگوں نے ترجمہ کا کام کیا۔ مثلاً حدیث کی کتاب مشکاۃ المصابیح کا ترجمہ الحديث (Al-Hadis) کے نام سے چار جلدوں میں شائع ہوا ہے۔ اس ترجمہ میں غیر ضروری قسم کا دیباچہ اور تشریح شامل کر کے اس کو خواہ مخواہ ضخیم بنا دیا گیا ہے۔ نیز اس کی زبان نہایت poor ہے۔ کوئی اچھا انگریزی داں اس کو پڑھ کر مشکل ہی سے گہرا تاثر قبول کر سکتا ہے۔ مسلمانوں کے اچھے انگریزی داں لوگ اس کام کو کرتے تو یہی کام کتنا زیادہ جاندار ہوتا۔ محمد اقبال اور محمد علی کی انگریزی زبان اچھی تھی۔ مگر محمد اقبال شاعری کرتے رہے، اور محمد علی نے اپنی ساری زندگی سیاسی ہنگاموں میں ضائع کر دی۔
حضرت آدم علیہ السلام نے کاشت کا کام کیا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے بڑھئی کا کام کیا۔ حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے زرہ بناتے تھے (الانبیاء، 21:80)۔ حضرت ادریس
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues