Done is Undone
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۳۸
علیہ السلام نے کپڑا سینے کا کام کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بکریاں چرانے کا کام کیا (القصص، 28-28: 27)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک مدت تک چرواہی کا کام کیا ہے (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 2149)۔
حقیقت یہ ہے کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنا عین اسلامی طریقہ ہے۔ تمام پیغمبروں نے ایسا ہی کیا ہے۔ ہاتھ سے کام کرکے اپنی روزی کمانا عزت کی چیز ہے، نہ کہ ذلت کی چیز جس کو کرتے ہوئے آدمی شرمائے۔ حدیث میں آیا ہے: مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَاماً قَطُّ، خَيْراً مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ، وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2072)۔ یعنی کسی نے کھانا نہیں کھایا، جو بہتر ہو اس انسان سے جو اپنے ہاتھ کے عمل سے کھاتا ہے۔ اور اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کے عمل سے کھایا کرتے تھے۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے: اِنَّ اللهَ يُحِبُّ المُؤْمِنَ المُحْتَرِف (مسند الشہاب القضاعی، حدیث نمبر 1072)۔ یعنی اللہ حرفت کے ذریعے روزی کمانے والے کو پسند کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہاتھ سے کام کرنے کو حقیر سمجھنا دورِ ملوکیت اور مسلمانوں کے دورِ زوال کی پیداوار ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں اس کو بالکل بُرا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ قرآن میں زمین کے بارے میں ایک تو خَلَقَ الْأَرْضَ (41:9) کے الفاظ ہیں۔ یعنی اللہ نے زمین کو خلق (create) کیا۔ دوسری جگہ اس سلسلے میں یہ الفاظ ہیں: وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ (55:10)۔ یعنی اور زمین کو اس نے مخلوق کے لیے رکھ دیا۔ پہلی آیت سے مراد زمین کو وجود میں لانا ہے۔ دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے زمین کو اس کے صحیح ترین مقام پر رکھا۔ اس کو انام (ذی حیات اشیا) کے عین مطابق بنایا۔
یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ نزول قرآن کے وقت کسی کو معلوم نہ تھا کہ ساری کائنات میں صرف زمین ہے، جو ذی حیات اشیا کے انتہائی مناسب حال بنائی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues