Al-Risala · August 2021 · page 62

وحید الدین خان کی رحلت

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۶۲

مرحوم کی مذہب اور جدید چیلنج، منفرد تصنیف مفتی ناصر الاسلام فاروقی، مفتی اعظم جموں وکشمیر 22 اپریل کی صبح مجھے یہ خبر ملی کہ عالمی شہرت یافتہ عالم دین ومفکر اسلام مولانا وحید الدین خان رحلت فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ خبر میرے ذہن میں گردش کرتی رہی اور ذہن میں مرحوم کی وہ تمام تحریریں گردش کرنے لگیں جو میری نظروں سے گزری ہیں۔ بالخصوص ان کی مشہور ومعروف تصنیف ”مذہب اور جدید چیلنج“ جس کا آج بھی متبادل تلاش کرنا مشکل ہے۔ مولانا ایک وسیع المطالعہ اور کثیر اللسان عالم تھے۔ بلکہ ایک مجتہد تھے، ان کے اجتہادات سے گو اختلاف کی گنجائش ہے، تاہم مجموعی طور پر ان کی خدمات ملک وملت کے تعلق سے بے پناہ اہم اور راہنمایانہ ہیں۔ ضرورت ہے کہ ہم ان کی تصنیفات کا مطالعہ کریں اور مفید پہلوؤں سے راہنمائی لیتے ہوئے اپنی اور سماج کی تعمیر نو کریں۔ ان کی تصانیف، مثلاً ظہورِ اسلام، یکساں سول کوڈ، ”مارکسزم - تاریخ جس کو رد کر چکی ہے“ مولانا نے اس دور میں تحریر کی جس دور میں مارکسزم کا ڈنکا پوری دنیا میں بج رہا تھا۔ اسی طرح جب شاہ بانو کا مشہور مقدمہ پورے ملک میں زیر بحث آیا تو مولانا نے یکساں سول کوڈ تحریر کر کے قانونی دانشوروں کو حیران کر دیا۔ اسی کتابچہ کے حوالے سے مولانا علی میاں اور مولانا ابواللیث اصلاحی امیر جماعت نے بھی اس کی اشاعت کے فوراً بعد مولانا کو اس عظیم مدلل کتابچہ کے لیے مبارک باد دی تھی اور بہت سراہا تھا۔ اختلاف رائے کس شائستگی کے ساتھ ہونا چاہیے یہ بھی مولانا موصوف کی تنقیدی تحریروں سے ہی سیکھا جا سکتا ہے۔ بہر حال یہ بات طے ہے کہ کوئی بھی علمی سماج ان کے علمی وفکری سرمایے کو نہ فراموش کر سکتا ہے اور نہ ہی نظر انداز۔

مجھے مولانا صاحب کی فکر سے تعارف میں بہت وقت لگا مگر جب ہوا تو زندگی مکمل بدل گئی ۔ قرآن پاک کا انگریزی ترجمہ اور ان کی بہت سی کتابوں نے ذہن پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ (اسد ربانی، ڈپٹی ڈائریکٹر، پنجاب آرٹ)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page