وحید الدین خان کی رحلت
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۶۱
ماہنامہ الرسالہ پڑھتا رہتا ہوں۔ طالب علمی کے زمانے میں ایس آئی او کے متعدد کیمپوں میں ان سے استفادہ ہوتا رہا۔ ان کے دولت کدے پر بہت سی یادگار ملاقاتیں رہیں۔ مولانا کی شفقت و محبت، فکری اختلاف کے باوجود خرد نوازی اور ہماری حقیر کاوشوں کی قدردانی اور فیض رسانی کے لیے ہر دم تیار رہنے کی خوبی سے میں ہمیشہ بے حد متاثر ہوا۔
ان کی رحلت سے اسلامی کاوشوں کے علمی محاذ پر جو بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے، اللہ تعالیٰ اسے پر فرمائے۔ ہم ان کے فرزندان ڈاکٹر ظفر الاسلام خان، ڈاکٹر ثانی اثنین خان اور دیگر اقارب کے غم میں شریک ہیں۔ اور ان کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔
وحید الدین خان کی رحلت
مولانا وحید الدین خان کے انتقال کی خبر سن کر لمحہ بھر کے لیے سانس رک سی گئی۔ روایتی مذہبی ماحول کی زنجیروں اور جکڑ بندیوں سے ایک شخص خود کو کس طرح آزاد کر سکتا ہے؛ یہ سبق ہم خان کی زندگی سے سیکھ سکتے ہیں۔ خان فرقہ وارانہ آلودگیوں سے بلند ہوئے۔ مدرسۃ الاصلاح پہنچے۔ مولانا امین احسن اصلاحی سے تعلیم حاصل کی۔ بعد میں وہ جماعت اسلامی میں شامل ہوئے اور پھر مولانا مودودی کی فکر کا بھر پور نقد لکھا۔ ان کا فکری ارتقاء جاری رہا اور بعد کے دور میں انہوں نے خود اپنے ہی بعض سابقہ نظریات کے خلاف لکھا۔ یہ انتقادی کاوش قابل تحسین ہے۔ وہ ان چند علماء میں سے تھے جنہوں نے قرآن کو خود قرآن کے زاویہ نظر سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ خان کی وفات میرے لیے ایک ذاتی صدمہ ہے۔ کل سے میں اس صدمے سے نڈھال ہوں۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے؛ ہندوستان میں دیکھنے کو اب تاج محل ہی رہ گیا، مولانا تو ابدی سفر پر روانہ ہو گئے۔ ۔ (ڈاکٹر خضر یاسین، پاکستان)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues