وحید الدین خان کی رحلت
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۶۴
مولانا وحید الدین خاں ابو یحییٰ، کراچی، پاکستان 21 اپریل 2021 کی شب مولانا وحید الدین خان کا انتقال ہو گیا۔ مولانا نے چھیانوے برس کی عمر پائی۔ وہ تقریباً پچھلے ستر برسوں سے تحریر و تقریر کے ذریعے سے لوگوں کی تربیت کر رہے تھے۔ پچھلی نصف صدی سے ان کا کام ایک باقاعدہ مشن کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ ہر طرح کے منفی حالات سے بے نیاز ہو کر اپنا کام کیا جائے۔ یہ ان کا طریقہ کار ہی نہیں، ان کا بنیادی پیغام بھی تھا کہ ہر طرح کے منفی حالات میں مثبت مواقع ڈھونڈ کر اپنا کام کیا جائے۔ وہ ساری زندگی جو دوسروں سے کہتے رہے، عملاً خود بھی کرتے رہے۔
برصغیر کے روایتی ماحول میں جہاں پر مقبولیت کا راستہ یہی ہے کہ سیاست اور فرقہ واریت پر جذباتی گفتگو کی جائے یا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے سے اپنی پہچان بنائی جائے، مولانا نے مثبت سوچ کے فروغ کو اپنا بنیادی مشن بنایا اور کتب و مضامین کے نسبتاً محدود راستے کو مستقل مزاجی سے اختیار کیا۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں بظاہر یہ محسوس ہوتا تھا کہ مولانا کے غیر معمولی علمی قد و قامت اور انتہائی متنوع کام کے باوجود ان کا مشن کامیاب نہیں ہوا۔ مگر معاملہ ایسا نہیں ہے۔ مولانا وحید الدین خان کے انتقال کے بعد ایک عجیب واقعہ ہوا۔ وہ یہ کہ سوشل میڈیا پر جہاں سماج کا باشعور طبقہ اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے، اس کی آمد کے بعد پہلی دفعہ اتنے بڑے پیمانے پر کسی شخصیت کے انتقال پر لوگوں نے تعزیت کی، اظہار عقیدت پیش کیا، ان کے کام کا اعتراف کیا اور ان اثرات کا ذکر کیا جو بالواسطہ یا بلا واسطہ مولانا کے کام سے ان پر پڑے۔ مولانا کی وفات پر ہونے والا یہ عجیب واقعہ اس بات کی زندہ مثال ہے کہ تعمیری کام جب مستقل مزاجی سے کیا جائے تو آخر کار وہ اپنے اثرات پیدا کر لیتا ہے۔ یہ اثرات اس معاشرے میں بھی ظاہر ہو جاتے ہیں جہاں سیاست اور فرقہ واریت سب سے زیادہ اہم بن چکے ہوتے ہیں۔
مولانا کا معاملہ یہ ہے کہ اللہ نے انھیں ایک صدی کی مہلت عمل دی۔ وہ متعدد زبانوں کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues