Al-Risala · August 2021 · page 149

مولانا وحید الدین خاں: افکار و خدمات

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۴۹

مولانا وحید الدین خاں: افکار و خدمات

محمد عارف ندوی (استاذ جامعہ الہدایہ، جے پور، راجستھان)

انسانی تاریخ میں ہر زمانے میں جینیس افراد پیدا ہوتے رہے اور انسانوں کی رہنمائی کے لیے ہر ہر زمانہ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے رہے۔ مثلاً حضرات انبیاء علیہم السلام۔ اس کے بعد اصحابِ رسول کا گروہ ہے، جس کو ایک مستشرق نے ہیروز کی نرسری کہا ہے۔ اس کے بعد بھی امت مسلمہ میں ایسے جلیل القدر ذہین، رجال کار، ارباب حل وعقد، کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، اور تا صبح قیامت ان شاء اللہ یہ زریں سلسلہ جاری رہے گا۔ انہیں ذہین، مجتہد ارباب حل وعقد میں مولانا وحید الدین خاں صاحب کی عظیم شخصیت کا شمار ہے۔ مولانا علیہ الرحمہ نے اعظم گڑھ کے زرخیز خطے میں اپنی آنکھیں کھولیں، اور بعد میں چل کرو وہ کارنامہ انجام دیا جسے دنیا کی آنکھوں چشم فلک نے قدردانی کی اور ۲۰۲۱ء ( رمضان المبارک ۱۴۴۲ء کے عشرہ اولیٰ) میں یہ شمع علم ومعرفت کے میدان میں اپنی فکری وعلمی تابانیوں کو بکھیر کر زندگی کی آخری سانس لی۔ ثبت افکار کی شمع جلا کر کے جریدہ عالم پر اپنا روشن نام ثبت کر دیا، مولانا جسمانی طور پر اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن اپنے اعلیٰ افکار و مثبت کردار واُمّت مسلمہ کی صحیح رہنمائی کرنے والے دروس واسباق کے ایسے لازوال و دائمی نفع بخش آثار و خدمات کے موتی دے گئے جو تا ابد درخشاں رہیں گے ۔ مثلاً مولانا نے اسلام کی حقانیت کے اثبات کے لیے سائنسی اندازِ فکر کو اپنایا اور سائنندانوں کی تحقیقات کی روشنی میں کلمۂ اسلام و دین اسلام کی حقانیت اجاگر کی۔

قرآن عظیم کی منفرد خدمت انجام دی کہ جس کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی، 30 سے زیادہ زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ شائع کروا کر دنیا میں پیغام خداوندی کو عام فرمایا۔ یہ ایسا کارنامہ ہے جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ نہ جانے اس کی برکت سے رب ذوالجلال کی کتاب مقدس کے ذریعہ کتنے لوگوں کو اسلام کے سمجھنے کی توفیق ارزانی ہوئی اور ہزارہا ہزار لوگوں کے شکوک وشبہات وغلط فہمیوں کا ازالہ ہوا اور ہزاروں غیر مسلموں کو اسلام کے قبول کرنے کی توفیق و سعادت حاصل ہوئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page