Al-Risala · January 2021 · page 47

Done is Undone

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۴۷

اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اس قسم کے جھوٹے الفاظ بولنے والے لیڈروں کو مسلمانوں میں ساتھ دینے والے بھی جوق در جوق مل جاتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ مسلمانوں کی جھوٹے فخر کی نفسیات ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا مزاج، ایک لفظ میں، جھوٹے فخر کا مزاج ہے۔ مذکورہ قسم کی باتوں سے جھوٹے فخر کے مزاج کو تسکین حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے مسلمان جس کو ایسا نعرہ لگاتے ہوئے دیکھتے ہیں اس کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔

موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ مقبولیت اقبال کو حاصل ہوئی ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اقبال کی شاعری فخر و مباہات کی شاعری ہے۔ اقبال کی شاعری میں مسلمانوں کے جھوٹے فخر کو زبردست غذا ملتی ہے۔ اس لیے ہر چھوٹا بڑا آدمی اس کو گنگناتا ہے۔ اقبال کی یہ شاعرانہ بلند پروازی بھی کیسی عجیب ہے کہ جو قوم اپنے زوال یافتہ ذہنیت کے نتیجے میں مقتدی بننے کی صلاحیت سے بھی محروم ہو چکی تھی اس کو انھوں نے الفاظ کی خود ساختہ دنیا میں امامت کے مقام پر بٹھا دیا: لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا سموئل جانسن [1709-1784] Samuel Johnson کا قول ہے کہ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ مشورہ کا خوش دلی کے ساتھ استقبال کیا جائے۔ جو لوگ سب سے زیادہ مشورہ کے حاجت مند ہوں وہ سب سے کم اسے پسند کرتے ہیں:

Advice is seldom welcome. Those who need it most, like it least. آدمی جب خود سوچتا ہے تو وہ اپنے جذبات کے زیر اثر سوچتا ہے۔ جب کہ مشورہ دینے والا ان جذبات سے خالی ہونے کی وجہ سے کم از کم دوسرے شخص کے بارے میں غیر جذباتی انداز میں سوچتا ہے۔ اس لیے مشورہ دینے والے کی رائے اکثر صحیح ہونے کے باوجود طالب مشورہ کے ذوق کے خلاف ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ آدمی کے اندر یا تو یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ جذبات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔ یا یہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues

Printed page