Al-Risala · January 2021 · page 46

Done is Undone

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۴۶

ایک ایسی چیز ہے، جس کے لیے بہت زیادہ گہری شخصیت درکار ہے۔

آدمی ایک ایسی مخلوق ہے جو لازماً مشغول رہنا چاہتا ہے۔ وہ عین فطرت کے تحت ہر وقت کچھ نہ کچھ کرنے پر مجبور ہے۔ اس لیے نہ کرنے پر وہی شخص راضی ہوسکتا ہے جس کے پاس نہ کرنے کے وقت بھی کچھ کرنے کے لیے ہو۔ وہی انسان چپ رہ سکتا ہے جو خاموشی کے وقت بھی اپنے پاس بولنے کا سامان رکھتا ہو۔

الرسالہ میں اس قسم کی باتیں کہی جاتی ہیں تو موجودہ مسلمانوں کو وہ معمہ (mysterious) معلوم ہوتی ہیں۔ اگر یہ مسلمان اندر سے خالی (preoccupied) نہ ہوئے بلکہ ان کے اندر کا وجود خدا کی معرفت سے ایک زندہ وجود بن چکا ہوتا تو انھیں یہ باتیں معمہ نہ معلوم ہوتی۔ اس وقت وہ جان لیتے کہ آدمی جب چپ ہوتا ہے تو وہ اپنے خدا سے سرگوشیاں کرنے لگتا ہے۔ باہر کی دنیا میں جب بظاہر اس کے قدم رک جاتے ہیں تو وہ اپنے اندر ہی اندر مارچ کرنے لگتا ہے۔ خارجی تدبیروں سے جب وہ منقطع ہوجاتا ہے تو اس کا رشتہ قوت کے اس لازوال سرچشمے سے جڑ جاتا ہے جو کسی واقعے کو ظہور میں لانے کے لیے خارجی تدبیروں کا محتاج نہیں۔ قاسم رضوی (1902-1970) آزاد حیدر آباد کے علم بردار تھے۔ وہ بہت زور و شور کے ساتھ آزاد حیدر آباد کی تحریک چلا رہے تھے۔ کسی ہندو سیاست داں نے ان سے کہا کہ آپ حیدر آباد کو آزاد حیدر آباد کیسے بنائیں گے جب کہ آپ چاروں طرف انڈین یونین سے گھرے ہوئے ہیں۔ قاسم رضوی نے جواب دیا:

"ہم نہیں گھرے ہوئے ہیں، تم گھرے ہوئے ہو"

پچھلے ایک سو سال سے بھی زیادہ عرصے سے مسلمان اسی قسم کی لفظ بازیوں میں لگے ہوتے ہیں۔ ایک کے بعد ایک ان کے درمیان ایسا لیڈر اٹھتا ہے جو خوب صورت الفاظ بول کر ان کے ذہن کو خراب کرتا رہتا ہے۔ میرے علم میں کوئی بھی لیڈر نہیں جس نے موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو حقیقت پسندی کا سبق دیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues

Printed page