https://thefreelancer.co.in/?p=9676
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۹۲
2021ء بمطابق 8 رمضان 1442ھ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ امت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے اور مولانا مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ روش دہر کا ہر نقش پکارے گا مجھے۔ ۔! یہ نہ سمجھو کہ مجھ تک مرا افسانہ ہے..! مولاناوحید الدین خاں صاحب کے اوصاف جاویداقبال ، پرنسپل اینگلو عربک اسکول، ترکمان گیٹ، دہلی وحید الدین خاں صاحب مرحوم ہمیشہ اپنے ساتھ ایک ڈائری رکھتے تھے۔ جو نیا خیال ان کے ذہن میں آتا اس کو فوراً ڈائری میں نوٹ کر لیتے ۔ جب موصوف کی کسی سے ملاقات ہوتی تو اس شخص کی گفتگو بڑی توجہ سے سنتے۔ خود کم بولتے، مخاطب کو بولنے کا موقع دیتے۔ اس کی گفتگو میں کوئی سبق آموز اور بامقصد بات ہوتی تو اسے ذہن میں رکھتے اور بعد میں ڈائری میں نوٹ کر لیتے۔ اسی طرح جب کوئی کتاب پڑھتے تو اس سے حاصل شدہ معلومات کو نوٹ کرتے۔ موصوف عوام اور خواص سے ملنے جلنے میں تکلف نہیں کرتے تھے۔ ان سے ملاقات بہت آسان تھی۔ تعلیم یافتہ لوگوں سے جب ملتے تو دو سوال ضرور پوچھتے۔ پہلا سوال: آج کل کون سی کتاب زیر مطالعہ ہے؟ دوسرا سوال: دوران مطالعہ یا دوران غور و فکر آپ کی کوئی یافت ہو تو بتائیں۔ انھوں نے بہت کچھ لکھا۔ ان کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ انھوں نے اتنا کچھ لکھا ہے کہ ان کے انتقال کے بعد کم سے کم دس سال تک ان کے مضامین الرسالہ میں شائع ہوتے رہیں گے۔ ان کے زیادہ تر مضامین ایک صفحہ کے ہوتے ہیں، یعنی چار سو سے کم الفاظ پر مشتمل۔ وہ نکات جو وہ اپنی ڈائری میں لکھتے، انہیں مضمون کی شکل میں مرتب کر لیتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues