https://thefreelancer.co.in/?p=9676
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۹۱
روشناس کرایا جائے اور سیاسی رو سے جو مسلمانوں میں منفی پہلو ہیں ان کی اصلاح کی جائے، مولانا نے جہاں ایک طرف مسلمانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ تمہیں اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور آخرت میں حساب دینا ہے، وہیں پر اگر مولانا کی پوری تحریروں کا تجزیہ کیا جائے تو مذکورہ بالا نتیجہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ چلے گا کہ مولانا نے مسلمانوں کو یہ بھی سمجھایا کہ تمھارا مشن کیا ہے؟ اس دنیا میں تمہارا وجود کس لیے ہوا ہے؟ تمہیں ردعمل کی نفسیات سے نکل کر برادران وطن کے ساتھ مثبت اور تعمیری سوچ اور معتدل رویہ اختیار کرنا چاہیے اور پوری دنیا کو اسی نظر سے دیکھنا چاہیے، منفی نظر سے نہیں۔ اس طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مولانا کی ساری تحریروں کا مرکزی خاکہ معرفت الہی اور دعوت و تبلیغ ہوتا تھا۔ آپ نے بہت ہی سلیس اور آسان فہم انداز میں قرآن کا انگلش ترجمہ کیا جو انگلش زبان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے بے حد مفید اور دعوتی راہ میں نہایت کارآمد ثابت ہوگا۔ اب تک اسلامی مرکز نئی دہلی کے چیئر مین اور ماہ نامہ ’’الرسالہ‘‘ کے مدیر بھی رہے ہیں۔ آپ کی زندگی مفکرانہ، قلم ادیبانہ اور اندازِ خطابت نہایت عالمانه تھا، آپ تمام مذاہب کی تقریبات میں شرکت کرتے تھے، ہندوستان آپ کی ملی و وطنی خدمات کا ہمیشہ معترف اور مرہون منت رہے گا۔
حکومت ہند نے آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حال ہی میں 25 جنوری 2021 کو ہندوستان کے دوسرے بڑے شہری ایوارڈ ’’پدم وبھوشن ایوارڈ‘‘ سے نوازا تھا۔ اس کے علاوہ بھی ہندوستان اور بیرون ممالک سے آپ کو بہت سے ایوارڈ زدے جا چکے ہیں۔ مثلاً 12 مئی 1989ء میں حکومت پاکستان نے آپ کی ایک کتاب ’’پیغمبر انقلاب‘‘ (انگریزی) پر پہلا بین الاقوامی انعام دیا تھا، ڈیمورگس بین الاقوامی اعزاز، یہ آپ کو گورباچیف کے ہاتھوں دیا گیا تھا۔ غرض یہ کہ مولانا کی شخصیت ایک عظیم شخصیت رہی ہے، وہ اپنے آپ میں خود ایک انجمن تھے، ہر موضوع پر گفتگو کرتے اور لکھتے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جتنا انھوں نے لکھا ہے شاید ہی کسی اور نے لکھا ہو، عالم اسلامی میں آپ کا وجود تمام لوگوں کے لیے ایک افتخار تھا اور آپ کی جدائی تحقیقی دنیا میں شاید حال کا سب سے بڑا خسارہ ہو، ماضی کے علماء اور ان کے علوم پر آپ کی نادر تنقیحات ہوتی تھیں۔ اپنی سیرت و کردار اپنے اخلاص وللہیت اور ہمدردی وخیر خواہی اور معرفت الہی کے ایک سچے طالب کے اعتبار سے نمونہ تھے ، اپنی عمر کے 96 سال اس دنیا میں گزار کر آج بتاريخ 21 اپریل
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues