قرآن کی دریافت
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۵۴
قرآن کی دریافت
میری تاریخ پیدائش یکم جنوری 1925 ہے۔ میری باقاعدہ تعلیم ایک عربی مدرسہ میں ہوئی۔ اس مدرسے کے نصاب میں قرآن ایک مرکزی کتاب کی حیثیت سے شامل تھا۔ مدرسے کی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد میں نے چاہا کہ قرآن کا مزید تفصیلی مطالعہ کروں۔ اس وقت میں اعظم گڑھ میں رہتا تھا۔ وہاں کے ادارہ دارالمصنفین میں ایک اچھا کتب خانہ تھا۔ اس کتب خانے میں تقریباً تمام عربی تفاسیر موجود تھیں۔ میں نے وہاں کے کتب خانے میں عربی تفاسیر کی مدد سے قرآن کا مزید مطالعہ شروع کیا۔ کئی برس تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس مطالعے سے میں نے جانا کہ قدیم عربی مفسرین کے نظریے کے مطابق، اہم اصول یہ ہے کہ آدمی ضروری فنون کے علاوہ قرآن کی آیتوں کا شان نزول یا سبب نزول جانے۔ اس طرح قرآن فہمی کے لیے اہم بات شان نزول یا سبب نزول کا جاننا قرار پایا۔ قرآن فہمی کے لیے یہ شرط بظاہر نہایت اہم تھی۔ لیکن شعوری یا غیر شعوری طور پر ہمیشہ میرے ذہن میں یہ خیال قائم رہا کہ شاید میں کوئی چیز مس(miss) کر رہا ہوں۔ جس کی وجہ سے قرآن کے زیادہ گہرے معانی تک پہنچنے میں میں کامیاب نہ ہوسکا۔ یہ بات میرے ذہن میں اس لیے آئی کہ قرآن میں بہت سی آیتیں ہیں، جن میں زمین و آسمان کی آیات (نشانیوں) کا حوالہ ہے، اور یہ کہا گیا ہے کہ ان آیات پر غور کرو۔ مگر مجھے کوئی عربی کتاب ایسی نہیں ملی، جس میں صحیح طور پر زمین و آسمان کی آیتوں کا تدبر و تفکر پر مبنی تفسیری مطالعہ کیا گیا ہو۔ جب کہ قرآن میں متعدد ایسی آیتیں ہیں، جو قاری کو اس کائناتی مطالعہ کی طرف اہمیت کے ساتھ متوجہ کرتی ہیں۔ اس سلسلے میں چند آیات کا ذکر آگے آرہا ہے۔ قرآن کا مطالعہ قرآن معروف معنوں میں ایک مذہبی کتاب نہیں ہے، جس سے مذہبی رسوم (rituals) کی ادائیگی کا طریقہ معلوم کیا جائے۔ بلکہ وہ ایک ایسی کتاب ہے، جس میں پوری انسانی زندگی کے لیے فکری اعتبار سے رہنما تعلیمات دی گئی ہیں۔ قرآن کا انداز عام انسانی کتابوں سے مختلف ہے۔ عام
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues