Al-Risala · February 2021 · page 5

فکری سفر

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۵

انسانی کتابوں کے لیے ریڈنگ (reading) کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کے لیے یہ کرنا ہے کہ اس کا مطالعہ کرنے والا تذکر وتدبر (ص، 38:29) کا طریقہ اختیار کرے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قرآن اپنے اسلوب کے اعتبار سے ربانی حکمت کا مجموعہ (collection of divine wisdom) ہے۔ قرآن میں بیان کردہ حقائق کو سمجھنے کے لیے اسی اصول کو اختیار کرنا چاہیے۔

فکری سفر

قرآن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے : وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُه (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2906) ۔ یعنی اس کے عجائب (معانی) کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے معانی کے مختلف پہلو ہیں۔ اہل علم ان پر غور کر کے ہمیشہ اس کے نئے نئے پہلو دریافت کرتے رہیں گے۔ یہ قرآن کے کلام الہی ہونے کا ایک واضح ثبوت ہے۔ اگر قرآنی آیتوں کے صرف چند پہلو ہوتے تو قرآن ایک محدود کتاب بن جاتا۔ لیکن قرآن کی آیتوں کے لامحدود پہلو ہیں تو قرآن ایک ابدی کتاب بن گیا ہے، جیسا کہ اللہ رب العالمین کی ذات ایک ابدی ذات ہے۔ قرآن میں بار بار کہا گیا ہے کہ قرآن کی آیتوں پر غور کرو۔ مثلاً : كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُو الْأَلْبَابِ (38:29) - یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تا کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تا کہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ قرآن کی آیتوں میں یہ غور وفکر صرف فنی معنی میں نہیں ہے۔ یعنی یہ اس لیے نہیں ہے کہ قاری آیت کے الفاظ کو حل کرے، اس کے گرامر وغیرہ کو دریافت کرے۔ بلکہ وہ دراصل اس لیے ہے کہ قاری قرآن کی آیتوں میں چھپے ہوئے سبق (lesson) کو تدبر و تفکر کے ذریعے دریافت کرے۔ مثلاً قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے : قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (29:20) ۔ یعنی کہو کہ زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو کہ اللہ نے کس طرح خلق کو شروع کیا، پھر وہ اس کو دوبارہ اٹھائے گا۔ بے شک اللہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page