Al-Risala · February 2021 · page 9

قرآن کا موضوع

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۹

دیا۔ لیکن بعد کے زمانے میں کوئی بھی شخص اس حقیقت کو جانتا نہ تھا، نہ مصر کے اندر اور نہ مصر کے باہر۔ پروفیسر وکٹر لاریٹ(Victor Loret) پہلا شخص ہے جس نے 1898 میں مصر کے ایک قدیم مقبرہ میں داخل ہو کر دریافت کیا کہ یہاں مذکورہ فرعون کی لاش ممى کی ہوئی موجود ہے۔ 8 جولائی 1907 کو ایلیٹ اسمتھ(Elliot Smith) نے اس لاش کے اوپر لپٹی ہوئی چادر کو ہٹایا۔ اس نے باقاعدہ سائنسی تحقیق کی، اور پھر 1912 میں ایک کتاب شائع کی، جس کا نام ہے شاہی ممیاں (The Royal Mummies)۔ کاربن ڈیٹینگ کے ذریعے ثابت ہو گیا کہ یہ ممی کی ہوئی لاش اسی فرعون کی ہے جو تین ہزار سال حضرت موسیٰ کے زمانے میں غرق کیا گیا تھا۔ ایک مغربی مفکر کے الفاظ میں: His earthly remains were saved by the Will of God from destruction to become a sign to man, as it is written in the Quran. فرعون کا مادی جسم خدا کی مرضی کے تحت برباد ہونے سے بچالیا گیا تا کہ وہ انسان کے لیے ایک نشانی ہو، جیسا کہ قرآن میں لکھا ہوا ہے۔ بائبیل اور قرآن اور سائنس (The Bible, the Quran and Science) کے مصنف ڈاکٹر موریس بوکائی (Maurice Bucaille) نے 1975 میں فرعون کی اس لاش کا معائنہ کیا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی کتاب میں اس پر جو باب لکھا ہے، اس کا خاتمہ ان الفاظ میں کیا ہے:

Those who seek among modern data for proof of the veracity of the Holy Scriptures will find a magnificent illustration of the verses of the Quran dealing with the Pharaoh’s body by visiting the Royal Mummies Room of the Egyptian Museum, Cairo!

وہ لوگ جو مقدس کتابوں کی سچائی کے لیے جدید ثبوت چاہتے ہیں، وہ قاہرہ کے مصری میوزیم میں شاہی ممیوں کے کمرے کو دیکھیں، وہاں وہ قرآن کی ان آیتوں کی شاندار تصدیق پالیں گے جو کہ فرعون کے جسم سے بحث کرتی ہے۔ (عظمت قرآن، صفحات 31-30)۔

قرآن کا موضوع

قرآن کے بارے میں ایک سوال یہ ہے کہ قرآن کا موضوع کیا ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page