قرآنِ عصرِ حاضر میں
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۸
یہ کتاب اصلاً فرانسیسی زبان میں لکھی گئی تھی۔ اس کے بعد انگریزی ، اور عربی وغیرہ متعدد زبانوں میں چھپ کر شائع ہوچکی ہے۔ اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ دو مغربی سائنسدانوں نے مصر جاکر فرعون کی لاش کو دریافت کیا، اور تحقیق کرکے ثابت کیا کہ یہ اسی فرعون کی لاش ہے، جو حضرت موسیٰ کے زمانے میں سمندر میں غرق ہوا تھا۔ اس موضوع پر راقم الحروف نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب عظمت قرآن میں لکھا ہے۔ اس مقالے کا ایک جزو یہاں نقل کیا جاتا ہے: تیر ھویں صدی قبل مسیح (13th century BC) میں مصر میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام مرفتحاح (Merneptah) تھا۔ اس کا مقابلہ پیغمبر موسیٰ کے ساتھ پیش آیا۔ مگر قرآن بتاتا ہے کہ وہ پیغمبر موسیٰ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکا۔ البتہ وہ خود بحرِ احمر (Red Sea) میں غرق ہو گیا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرعون کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً (10:92) ۔ یعنی پس آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تا کہ تو اپنے بعد والوں کے لئے نشانی بنے۔
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کی موت کے بعد اس کی لاش نابود نہیں ہوئی، بلکہ وہ باقی رہی۔ بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ سمندر میں غرق ہونے کے بعد اس کی لاش سمندری جانور کھا جائے ۔ جسم کی حیثیت سے اس کا وجود باقی نہ رہے۔ لیکن یہاں بتایا گیا کہ فرعون کا جسم بدستور موجود ہے، اور وہ بعد والوں کے لیے ایک عبرت کا نشان بنے گا۔ یہ واقعہ بعد کے لوگوں کے لیے مکمل طور پر ایک غیر معلوم واقعہ بن گیا۔ کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ فرعون کی لاش کہاں موجود ہے۔ تقریباً دو ہزار سال بعد قرآن عرب میں اترا۔ اس میں مذکورہ آیت شامل تھی۔ لیکن بوقت نزول کوئی مسلم یا غیر مسلم اس حقیقت کو جانتا نہ تھا۔ یہ حقیقت تاریخ کا ایک فراموش شدہ واقعہ بنا ہوا تھا۔ لیکن انیسویں صدی کے آخر میں سائنس کے ذریعہ یہ واقعہ پیش آیا کہ فرعون کی لاش دوبارہ انسان کے علم میں آگئی۔ قصہ یہ ہے کہ فرعون کے مرنے کے بعد آل فرعون نے اس کی لاش کو قدیم طریقے کے مطابق سومیائی کرکے محفوظ کردیا، اور اس کو اہرام مصر میں ایک تاریخی یادگار کے طور پر رکھ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues