انسان کے لیے سبق
الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۱۱
ہوئی ہے کہ وہ انسان کے لیے نافع بنے، وہ انسان کے لیے نقصان دہ نہ بنے۔ مثلاً سورج کی روشنی فضا میں چھن کر آتی ہے، تاکہ وہ انسانوں کے لیے ضرر رساں نہ ہو۔ اس طرح سورج زمین سے بہت ہی درست فاصلے پر ہے، تاکہ وہ انسان کے لیے صرف نفع بخش ہو، ضرر رساں نہ ہو، وغیرہ۔ پھر انسان جب مزید غور و فکر کرتا ہے، تو وہ اس دریافت تک پہنچتا ہے کہ یہ معاملہ کوئی محدود معاملہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے باہر جو یونیورس ہے، وہ پوری کی پوری کسٹم میڈ یونیورس (custom-made universe) ہے، یعنی انسان اور کائنات دونوں ایک دوسرے کے لیے مثنی (counterpart) ہیں۔ کائنات انسانی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ دونوں کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے، جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے : وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (45:13) ۔ یعنی اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا، سب کو اپنی طرف سے۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں۔
انسان کے لیے سبق
قرآن کی سورہ الرحمن میں دو آیتیں ان الفاظ میں آتی ہیں : كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ۔ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (55:26-27) ۔ یعنی جو بھی زمین پر ہے، وہ فنا ہونے والا ہے، اور تیرے رب کی ذات باقی رہے گی، عظمت والی اور عزت والی۔ ایک شخص کی عمر 90 سال ہو چکی ہو، اور وہ پیچھے مڑ کر دنیا کو دیکھے، جس سے گزرتے ہوئے وہ 90 سال کی عمر کو پہنچا ہے تو اس کو اپنے تصور کی دنیا میں دکھائی دے گا کہ اس کے پیچھے دور تک وفات پانے والے انسانوں کی قبریں بنی ہوئی ہیں۔ یہ قبریں اتنی زیادہ ہوں گی کہ اس کی گنتی ختم ہو جائے گی، لیکن قبروں کی تعداد ختم نہ ہوگی۔ اس کو چشم تصور میں ایک ایسا منظر دکھائی دے گا، جس میں اس کے جیسے بے شمار لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ مجھ کو دیکھو، ایک وقت تھا کہ میں بھی تمھاری طرح زمین پر چل پھر رہا تھا، آج صرف میری بھولی ہوئی یاد ہے، میں تم سے بہت دور ایک ایسی دنیا میں پہنچ چکا ہوں، جہاں تم کو بھی ایک دن آنا ہے۔ تم کو چاہیے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues