Al-Risala · February 2021 · page 12

قرآن ایک عالمی کتاب

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۱۲

کہ تم سب سے زیادہ اس حقیقت پر غور کرو، دوسرے انسانوں کے انجام سے اپنے لیے سبق حاصل کرو۔ اس کے بعد اگر وہ آدمی اپنے تصور کی دنیا میں اللہ رب العالمین کو یاد کرے تو اس کو محسوس ہوگا کہ اللہ رب العالمین اپنے تمام جلال و کمال کے ساتھ ایک حی و قیوم ذات کی طرح موجود ہے۔ وہ ہر چیز سے بلند ہے۔ اس وقت اس کو قرآن کی یہ آیت یاد آئے گی: وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ (2:255)۔ یعنی اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے: His throne extends over the heavens and the earth اس حقیقت پر سوچتے ہوئے جب وہ قرآن کے مذکورہ الفاظ کو دہرائے گا تو اپنی بے چارگی، اور اللہ کی عظمت کو سوچ کر اس کے جسم پر کپکپی طاری ہو جائے ۔ اس کو اللہ کی موجودگی (presence) کا اتنا شدید احساس ہوگا کہ وہ بے ساختہ طور پر سجدے میں گر پڑے گا۔

قرآن ایک عالمی کتاب

قرآن ساتویں صدی عیسوی میں اترا۔ قرآن سادہ طور پر ایک کتاب نہیں، وہ انسانوں کے لیے ابدی ہدایت کی ایک عالمی کتاب ہے۔ چنانچہ قرآن میں ساتویں صدی عیسوی میں یہ اعلان کیا گیا تھا: تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تا کہ وہ جہان والوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔ قرآن چونکہ تاریخ کے ابتدائی دور میں اترا تھا، اس لیے اپنے آپ اس کے اندر بہت سے نقائص شامل تھے۔ مثلاً یہ کہ ابتدائی دور میں یہ مطلوب تھا کہ قرآن کے متن کو یاد کر کے اس کو محفوظ کیا جائے، تا کہ قرآن بعد کی نسلوں تک کامل حفاظت کے ساتھ پہنچ سکے۔ اسی طرح یہ بھی کہ کتابت کے فن کو ڈیو لپ کیا جائے، کاغذ تیار کیا جائے، پرنٹنگ پریس وجود میں لایا جائے۔ قرآن کی زبان عربی کو اس طرح محفوظ کیا جائے کہ وہ قیامت تک قابل فہم زبان بنی رہے، قرآن کے اشارات کو تفصیل کی زبان میں بیان کیا جائے، قرآن سے متعلق علوم کو مدون کیا جائے، آئیچ آف کمیونی کیشن کو دنیا میں لایا جائے، دنیا میں مذہبی آزادی آئے، دنیا میں کشادہ دلی اور کھلا پن (openness) کا دور لایا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page