Al-Risala · February 2021 · page 14

محفوظ کتاب

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۱۴

اتفاق ہے کہ قرآن آج بھی اپنی اصل عربی متن کے ساتھ اسی طرح محفوظ ہے، جس طرح وہ ساتویں صدی عیسوی میں تھا۔ مثلاً سر ولیم میور (1905-1819) ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ انگریز مستشرق تھا، جو برٹش حکومت کے دور میں غیر منقسم ہندوستان کی ایک ریاست کا گورنر مقرر ہوا۔ سر ولیم میور نے ایک کتاب لکھی، جس کا نام ’لائف آف محمد‘ تھا۔ یہ انگریزی کتاب 1866 میں چار جلدوں میں شائع ہوئی۔ قرآن کے بارے میں ان کا ایک اقتباس یہ ہے:

There is probably in the world no other work which has remained twelve centuries with so pure a text...We may, upon the strongest presumption, affirm that every verse in the Quran is the genuine and unaltered composition of Muhammad himself. قرآن کے نزول کے وقت مختلف باتوں کے علاوہ یہ آیت بھی نازل ہوئی تھی: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ (15:9)۔ یعنی یہ ذکر ہم نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ یہ حفاظت صرف عربی متن کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ ایک جامع معنوں میں ہے۔ یعنی ہر اعتبار سے حفاظت۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی پوری طرح صحیح ثابت ہوئی ہے۔ مثلاً نزول قرآن کے وقت کی عربی زبان استثنائی طور پر آج بھی ایک قابل فہم زبان کی حیثیت سے دنیا میں موجود ہے۔ اسی طرح نزول قرآن کے وقت جو حالات تھے، وہ بھی سیرت رسول کی شکل میں آج تک محفوظ ہیں۔ نیز قرآن میں تاریخ کے جو حوالے دیے گئے تھے، وہ بعد کی تحقیق سے درست ثابت ہوئے۔ مثلاً فرعون کے غرق ہونے کے بعد اس کی لاش کا محفوظ ہونا (یونس، 10:92)۔ قرآن ایکسپلوزن قرآن خدا کا آخری ہدایت نامہ (final guide book of God) ہے۔ نزول قرآن کی ابتدا میں اعلان کیا گیا تھا کہ قرآن اس لیے اترا ہے کہ وہ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے نذیر (الفرقان، 25:1) بنے۔ نذیر کا مطلب ہے گائیڈ بک (guide book)۔ قرآن عالمی گائیڈ بک اس معنی میں نہیں تھا کہ نزول قرآن کے بعد فوراً وہ ساری دنیا میں خود بخود پھیل کر گائیڈ بن

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page