Al-Risala · February 2021 · page 15

محفوظ کتاب

الرسالہ، فروری ۲۰۲۱، صفحہ ۱۵

جائے ۔ خدا کا منصوبہ ہمیشہ تدریجی عمل (gradual process) کے طور پر ہوتا ہے۔ یہی خدائی قانون قرآن کے ساتھ بھی اختیار کیا گیا۔

قرآن کے اترتے ہی خدائی نظام کے تحت ایک عالمی پراسس جاری ہوا، جس کا نقطہ انتہا (culmination) یہ تھا کہ ایک طرف قرآن محفوظ کتاب (preserved book) کی حیثیت اختیار کرلے، اور دوسری طرف انسانی دنیا میں وہ تمام اسباب مکمل صورت میں دستیاب ہو جائیں، جو قرآن کے عالمی ڈسٹری بیوشن کو ممکن بنادیں۔ تقریباً ہزار سال کے تاریخی عمل (historical process) کے بعد اکیسویں صدی میں یہ اپنی تکمیل تک پہنچا۔ اب اکیسویں صدی میں وہ تمام اسباب کامل صورت میں دستیاب ہوگئے، جو قرآن کی عالمی اشاعت یا عالمی ڈسٹری بیوشن کے لیے ضروری تھے۔ اسباب کے ڈیویلپمنٹ کا منصوبہ اتنا بڑا تھا کہ صرف اہل ایمان اس کو رو بہ عمل نہیں لا سکتے تھے۔ چنانچہ اللہ نے ایسے حالات پیدا کیے کہ دنیا کے تمام انسان اس کی تکمیل میں مصروف ہوگئے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو حدیث میں تائیدِ دین بذریعہ غیر اہل ایمان کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ صحیح البخاری (حديث نمبر (3062) میں اس کے لیے تائیدِ دین بذریعہ رجل فاجر (إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ) کے الفاظ آئے ہیں۔ اس حدیث میں فاجر سے مراد سیکولر لوگ ہیں۔ ایک اور روایت میں اس کو غير اہل دین کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالِ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ (معجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر (14640)۔ گویا اللہ رب العالمین نے ایسے حالات پیدا کیے کہ پوری عالم انسانیت اس عمل کی تکمیل میں مصروف ہوگئی۔ وہ تمام ترقیاں جن کو کمیونی کیشن کہا جاتا ہے، وہ اسی کا نتیجہ ہیں۔ اور اسی وجہ سے اس دور کو دورِ مواصلات (age of communication) کہا جاتا ہے۔ اہل کتاب سے استفادہ قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (16:43)۔ یعنی اور ہم نے تم سے پہلے بھی آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے، پس اہل علم سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔ اہل علم

‹ Previous page Next page › Contents of February 2021 All issues

Printed page