قدیم دور، جدید دور
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۱۳
سائنٹفک اسلوب قرآن کا اسلوب ہے۔
قدیم دور، جدید دور
انڈیا کے انگریزی روزنامہ دی ٹائمز آف انڈیا (20 اپریل 1984) میں ایک دلچسپ لطیفہ نقل کیا گیا ہے۔ اس کا عنوان ہے :
Space is not the Limit
"Rakesh's journey into space" says the narrator, was tabled for discussion in our house. Every member of the family was expressing his or her opinion on the subject. Then my youngest daughter asked: "Dad, can I become the first Indian spacewoman?"
"Yes dear" replied the grandmother, "you will be the first Indian spacewoman. I will consult Pandit Girdhar Vyas and see what is in store for you in your kundali."
My eldest son, Arun, interjected. "Mom, you should consult the Russian leader, not astrologers."
یہ لطیفہ بتاتا ہے کہ وہ کیا فرق ہے، جو دورِ قدیم اور دورِ جدید کے درمیان ہے۔ قدیم زمانے میں علم نام تھا نجومیوں اور جوتشیوں کی قیاسات کا، مگر موجودہ زمانے میں علم نام ہے مطالعہ اور تجربہ کے ذریعے دریافت شدہ حقیقت کا۔ قدیم زمانے کا انسان سمجھتا تھا کہ واقعات پر اسرار اسباب کے تحت ہوتے ہیں ۔ مگر آج کا انسان یہ جانتا ہے کہ واقعات معلوم اسباب کے تحت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا ایک تعلیم یافتہ نوجوان خلا (space) کے سفر کے معاملے کو جوتشی سے پوچھنے کے بجائے خلائی سائنس کے ماہرین سے پوچھنے پر زور دیتا ہے۔ جدید انسان کے سامنے اسلام کو پیش کرنے کے لیے اس فکری تبدیلی کا لحاظ کرنا بہت ضروری ہے۔ اسلام اگر چہ پوری طرح ایک سائنٹفک مذہب (scientific religion) ہے۔ مگر اس کو پیش کرنے والے، مذکورہ گرینڈ مدر کی طرح، غیر سائنسی انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ایسا ہو سکتا ہے کہ جو الزام حقیقت دعٰی کے سر آنا چاہیے تھا، وہ غیر ضروری طور پر اسلام کے سر آجائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues