Al-Risala · October 2021 · page 14

تعلقاتِ انسانی کا اصول

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۱۴

تعلقاتِ انسانی کا اصول

انسانوں کے درمیان تعلقات قائم کرنے کے لیے ہمیشہ ایک جامع اصول درکار ہوتا ہے۔ ایک ایسا اصول جو اپنے اور غیر کے درمیان مساوات (equation) کے قیام کی بنیاد بن سکے۔ یہ ایک ایسی ضرورت ہے جس کے بغیر انسانی سماج کو منظم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسلام کی تاریخ میں ابتدائی اور معیاری زمانہ وہ ہے جس کو عہد رسالت کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں انسانی تعلقات کی بنیاد جس اصول پر قائم کی گئی تھی، وہ شاہد اور مشہود (البروج، 85:3) کی بنیاد تھی۔ یہ دونوں لفظ شہادت (گواہی) سے اخذ کیے گئے ہیں۔ شاہد کا مطلب ہے گواہ (witness)، اور مشہود کا مطلب ہے وہ جس پر گواہی دی جائے (witnessed)۔ شہادت سے مراد دعوت ہے اور شاہد و مشہود سے مراد وہی چیز ہے، جس کے لیے داعی اور مدعو کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ مسلمان اور دوسری قوموں کے درمیان شاہد اور مشہود کی یہ مساوات (equation) عہد رسالت اور عہد صحابہ میں قائم رہی۔ اس کے بعد عباسی سلطنت کا زمانہ آیا، جب کہ دنیا کے بڑے حصے میں ایک مسلم ایمپائر قائم ہو گیا۔ اب شاہد اور مشہود کی یہ سابق مساوات ٹوٹ گئی، اور نئی مساوات حاكم اور محکوم کی بنیاد پر قائم ہوئی۔ یہی وہ زمانہ ہے، جب کہ مسلم فقہانے دارالكفر اور دار الاسلام کی اصطلاحیں وضع کیں۔ اس مساوات کے تحت، دنیا کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا۔ مسلم اکثریت کے علاقے دارالاسلام بن گئے، اور اس کے مقابلے میں غیر مسلم علاقے دارالكفر یا دار الحرب قرار پائے۔ انیسویں صدی عیسوی میں یورپ کی نو آبادیاتی طاقتوں کے ظہور کے بعد یہ مساوات (equation) دوبارہ ٹوٹ گئی۔ اب مغربی تہذیب کے غلبہ کے تحت دنیا میں ڈیموکریسی کا زمانہ آیا۔ سیاست کے جمہوری تصور کے تحت، حاکم اور محکوم کی مساوات بے معنی قرار پائی۔ اُس نے اپنے حق میں فکری اساس کھو دی۔ مسلمانوں اور مغربی قوموں کے درمیان بارہویں اور تیر ہویں صدی عیسوی میں صلیبی جنگیں (crusades) پیش آئیں ۔ ان جنگوں میں مغربی قوموں کو شکست ہوئی، لیکن اس شکست نے ان کے اندر ایک مثبت نتیجہ پیدا کیا۔ یہ لوگ علم کے میدان میں سرگرم ہو گئے،

‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues

Printed page