8 نومبر 1985
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۲۱
ان کی باتوں کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کیجیے تو اس کے اندر سے صرف ”قومی اسلام“ برآمد ہوگا۔ مسلمانوں کی قومیت اور دوسروں کی قومیت میں بس یہ فرق ہے کہ دوسرے لوگوں کے پاس اپنے اجتماعی تشخص کو بتانے کے لیے اگر قوم کا لفظ ہے تو مسلمان ”خیر امت“ کا پر فخر لفظ پائے ہوئے ہیں۔ دوسرے کے پاس اگر صرف کتاب ہے تو مسلمانوں کے پاس کتاب کامل ہے۔ دوسروں کے پاس اگر ”نبی“ ہے تو مسلمانوں کے پاس افضل الانبیاء۔ دوسروں کے لیے جہنم کا خطرہ ہوسکتا ہے مگر مسلمانوں کو یہ خوش قسمتی حاصل ہے کہ ان کے لیے جنت کے بہترین محلات پیشگی طور پر رزرو (reserve) ہو چکے ہیں— آہ، وہ مسلمان جو اپنے آپ کو دین خداوندی میں نہ ڈھال سکے، البتہ دین خداوندی کو اپنے آپ میں ڈھال لیا۔
8 نومبر 1985
حادثہ موجودہ دنیا میں ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے۔ مگر کوئی حادثہ، خواہ وہ کتنا ہی سخت ہو، کسی آدمی کو صرف جزئی طور پر نقصان پہنچاتا ہے، وہ اس کو آخری طور پر تباہ نہیں کرتا۔ حادثہ کے بعد جو لوگ کھوئی ہوئی چیز کا غم کریں، وہ صرف اپنی بربادی میں اضافہ کرتے ہیں۔ جو لوگ حادثہ پیش آنے کے بعد بچی ہوئی چیز پر اپنی ساری توجہ لگا دیں وہ از سر نو کامیابی کی منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ آپ کھونے کے باوجود پا سکتے ہیں، بشرطیکہ آپ کھونے کے باوجود پانے کی جدوجہد کر سکیں۔
11 نومبر 1985
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آتی ہے: عَنْ سَخْبَرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُعْطِيَ فَشَكَرَ، وَابْتُلِيَ فَصَبَرَ، وَظَلَمَ فَاسْتَغْفَرَ، وَظُلِمَ فَغَفَرَ - ثُمَّ سَكَتَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالَهُ؟ قَالَ: أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 6613)— یعنی سخب رہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: جس کو دیا گیا پھر اس نے شکر کیا، اور اس کو آزمایا گیا پھر اس نے صبر کیا، اور اس پر ظلم کیا گیا تو اس نے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues