Al-Risala · October 2021 · page 20

تعلقاتِ انسانی کا اصول

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۱، صفحہ ۲۰

اوراق حکمت 1985 کی ڈائری قرآن میں اہل جنت کے بارے میں آیا ہے کہ وہ با اقتدار بادشاہ کے پاس سچی نشستوں پر بیٹھے ہوئے ہوں گے (فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ 54:55)۔ موجودہ دنیا میں آدمی جھوٹی نشستوں پر بیٹھا ہوا ہے۔ آخرت میں آدمی سچی نشستوں پر بٹھایا جائے گا۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی فریب اور استحصال (exploitation) کے ذریعہ اونچی جگہ پائے ہوئے ہے۔ یہاں ہم کو ایسے لوگوں کے درمیان زندگی گزارنا پڑتا ہے، جو اپنے آپ کو اس کا پابند نہیں سمجھتے کہ وہ اپنے اختیار کو صرف عدل کے دائرے میں استعمال کریں۔ آخرت کا معاملہ اس سے مختلف ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کا کامل اختیار حاصل ہے۔ مگر اس نے اپنے آپ کو اس کا پابند بنا رکھا ہے کہ وہ عدل اور رحمت ہی کے دائرہ میں اپنے اعلیٰ اختیارات کو استعمال کرے۔ اس سلسلے میں قرآن کے متعلق الفاظ یہ ہیں: كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ (6:12)۔ یعنی اس نے اپنے اوپر رحمت لکھ لی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ ایک ایسی ہستی ہے، جو اعلیٰ ترین معیاری ذوق رکھتا ہے۔ وہ پرفیکٹ سے کم پر کبھی راضی نہیں ہوتا۔ ایسے شہنشاہ کے پڑوس میں جگہ پانا کس قدر پر مسرت اور لذیذ ہوگا اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔

اللهم انك ملك مقتدر ما تشاء من امر يكون فاستعدنى فى الدارين وكن بي ولا تكن علىَّ وآتنى فى الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنى عذاب النار - موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی تقریریں سنیے یا ان کی تحریریں پڑھیے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سوچ تمام تر قومی سوچ ہے۔ وہ خواہ قومی الفاظ بول رہے ہوں یا نظریاتی الفاظ، لیکن

‹ Previous page Next page › Contents of October 2021 All issues

Printed page